حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کا تمام ریکارڈ طلب

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2017

ای میل

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سے متعلق فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل کی سماعت کے دوران عدالت نے ریفرنس کا مکمل ریکارڈ طلب کرلیا۔

شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سے متعلق دیئے گئے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما فواد چوہدری اور نعیم الحق بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے جبکہ نیب کی جانب سے اسپیشل پروسیکیوٹر عمران الحق نے پیروی کی۔

مزید پڑھیں: حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس: 13 نومبر سے نیب کی اپیل پر سماعت کا آغاز

سماعت کے آغاز میں نیب کے اسپیشل پروسیکیوٹر نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کا کہ ہائیکورٹ نے ریفرنس تکنیکی بنیادوں پر خارج کیا، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اصل ریفرنس کہاں ہے؟

پروسیکیوٹر نے بتایا کہ اصل ریفرنس ان کے پاس نہیں ہے، جس پر جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیئے کہ اصل ریفرنس کا ہونا ہمارے لیے ضروری ہے۔

پروسیکیورٹر نے عدالت کو بتایا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی تحقیقات میں اس کیس کے حوالے سے مزید دستاویزات اکٹھی کی ہیں اور والیم 8 اے حدیبیہ پیپرز ملز کیس سے متعلق ہے، جس کے بعد عدالت نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کا والیم 8 اے منگوا لیا۔

اسپیشل پروسیکیوٹر نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ اسحٰق ڈار کے ذریعے جعلی بینک اکاونٹس کھولے گئے، شریف خاندان کی آمدن کم اور اثاثے زیادہ ہیں، ریفرنس کے دوران اسحٰق ڈار کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس: شریف خاندان کے ایک اور امتحان کا آغاز

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریفرنس میں لکھا ہے نواز شریف کو زبردستی باہر بھیجا گیا، دوسری جگہ لکھا ہے نواز شریف باہر چلے گئے، نیب کی نظر میں نواز شریف خود گئے یا بھیجے گئے، جس پر اسپیشل پروسیکیورٹر نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف کے حکم پر نواز شریف کو باہر بھیجا گیا، نواز شریف کی پرویز مشرف کے ساتھ ڈیل ہوئی تھی۔

اسپیشل پروسیکیوٹر نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ ملزمان کی واپسی پر مقدمہ احتساب عدالت میں دوبارہ شروع ہوا، این آر او کے تحت نواز شریف کی وطن واپسی الیکشن کے قریب ہوئی، 2008 میں عدالت نے از سر نو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ 27 مارچ 2000 سے 10 دسمبر 2000 تک کچھ نہیں ہوا، کیا نواز شریف، پرویز مشرف پر بھی اثر انداز ہوئے تھے جبکہ نواز شریف کی واپسی پر بھی حکومت پرویز مشرف کی تھی، 27 نومبر 2007 کو نواز شریف آئے، نیب پھر نو ماہ خاموش رہا، 9 ماہ بعد نیب نے ریفرنس بحالی کی درخواست دی۔

عدالت کے ریمارکس میں کہا گیا کہ ملزم مفرور ہو تو کیس مختلف ہوتا ہے، عدالت نے قانونی معیار کا بھی جائزہ لینا ہے، ریفرنس کے وقت کیا شریف خاندان اقتدار میں تھا۔

جس پر پروسیکیورٹر نے بتایا کہ شریف خاندان کا اثرو رسوخ 2014 میں سامنے آیا، 2014 میں ہائیکورٹ نے ریفرنس خارج کردیا اور ہائی کورٹ نے نیب کو ازسرنو تحقیقات سے روکا تھا۔

مزید پڑھیں: حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس: نیب کا اسحٰق ڈار کے خلاف دوبارہ تحقیقات کا فیصلہ

جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ریفری جج نے دو میں سے ایک جج کے فیصلہ سے متفق ہونا تھا، جس پر اسپیشل پروسیکیورٹر کا کہنا تھا کہ ریفری جج نے ایک جج کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیا تھا۔

جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیئے کہ ریفرنس طویل مدت کے لیے زیرالتوا نہیں رکھا جاسکتا، آپ سمجھے اپیل دائر ہوگی اور ہم حکم جاری کردیں گے۔

جس کے بعد سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سے متعلق تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 دسمبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

حدیبیہ پیپر ملز کیس

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور اسحٰق ڈار کے خلاف نیب نے حدیبیہ پیپر ملز کا ریفرنس 2000 میں دائر کیا تھا، تاہم 2014 میں لاہور ہائی کورٹ نے یہ ریفرنس خارج کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا کہ نیب کے پاس ملزمان کے خلاف ثبوت کا فقدان ہے۔

پاناما کیس کی تحقیقات کے دوران سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے جے آئی ٹی کو حدیبیہ پیپر ملز کیس کا ریکارڈ جمع کرایا تھا، جس میں2000 میں اسحٰق ڈار کی جانب سے دیا جانے والا اعترافی بیان بھی شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس دوبارہ کھولنا نا انصافی ہے‘

اسحٰق ڈار نے اس بیان میں شریف خاندان کے کہنے پر ایک ارب 20 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کرنے اور جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے کا مبینہ اعتراف کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنے اس بیان کو واپس لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ بیان ان سے دباؤ میں لیا گیا۔