کراچی: ڈیبٹ کارڈز میں اسکیمنگ کے ذریعے 559 متاثرہ صارفین کا 1کروڑ 2 لاکھ روپے کے نقصان پراسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے تشویش کا اظہار کردیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے جاری اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک نے بینکوں سے یورو پے ماسٹر کارڈ ویزا (ای ایم وی) معیار کے استعمال کی گزارش کردی جو ان کے مطابق انتہائی محفوظ ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ کہ صرف 296 صارفین نے متنازع رقم کی منتقلی کی تصدیق کی ہے جبکہ حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) ان واقعات میں کمی چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے ٹی ایم فراڈ: 559 بینک اکاؤنٹس سے 1 کروڑ روپے کی چوری

ایس بی پی اعلامیے میں ہیکرز کی شناخت کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں دی گئیں تاہم اس میں بتایا گیا ہے کہ ہیکرز نے ان پیسوں کو اندرونی اور بیرونی ممالک میں مختلف مقامات سے کیش کیا۔

اعلامیے کے مطابق ایچ بی ایل کے ڈیبٹ کارڈ میں صارفین کی معلومات کا ہیکرز نے اسکیمنگ کے ذریعے نعم البدل تیار کیا تھا۔

مرکزی بینک کا کہنا تھا کہ 'ہم ایچ بی ایل انتظامیہ سے رابطے میں ہیں تاکہ متاثرہ صارفین کی رقم کو انہیں واپس دلوایا جاسکے اور آئندہ کے لیے حفاظتی اقدامات اٹھائے جاسکیں'۔

مزید پڑھیں: اے ٹی ایم کارڈ کو فراڈ مشین سے کیسے بچائیں؟

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ایچ بی ایل نے اس رقم کی منتقلی سے صارفین پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر اقدامات اٹھائے تھے جس میں انہوں نے ان تمام ہیکنگ میں استعمال ہونے والے ڈیبٹ کارڈز کو بلاک کردیا تھا۔

تاہم ان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اب تک صرف 296 صارفین نے متنازع رقم کی منتقلی کی تصدیق کی جبکہ بینک کو ہونے والا نقصان 1 کروڑ 2 لاکھ روپیے سے زائد ہے۔

اعلامیے میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایچ بی ایل نے متاثرہ صارفین کو رقوم واپس کرنے کے لیے انتظامات کرلیے ہیں جبکہ ایچ بی ایل کا اے ٹی ایم استعمال کرنے والے دیگر بینک صارفین کے نقصان کی بھی تشخیص کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'پاکستانی بینک اے ٹی ایم ٹیکنالوجی اپ گریڈ کریں'

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ اے ٹی ایم اسکیمنگ ایک غیر قانونی عمل ہے جس کے ذریعے اکاؤنٹ کی تفصیلات ڈیبٹ کارڈ کے پیچھے لگی مقناطیسی پٹی کے ذریعے چوری کی جاتی ہیں اور ایسے واقعات پاکستان میں اس سے قبل بھی رونما ہوچکے ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے ان کارڈز کی سیکیورٹی اور انٹرنیٹ بینکنگ استعمال کرنے والوں کو فراڈ کے ذریعے رقم کی منتقلی سے بچانے کے لیے خصوصی قوانین جاری کردیے ہیں جس کے ذریعے بینکوں کو خطرے کی تشخیص کے لیے جامع فریم ورک تیار کرنا اور اس پر عمل کرنا ہوگا اور کنٹرول اور مانیٹرنگ کا نفاذ کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: ایک شخص کا گوگل اور فیس بک سے 20 کروڑ ڈالر کا فراڈ

اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ڈیبٹ کارڈز کے پیچھے مقناطیسی پٹی میں صارف کے اکاؤنٹ کی تمام تر تفصیلات محفوظ ہوتی ہیں جن کی وجہ سے اسکیمنگ کا خطرہ ہوتا ہے جبکہ ای ایم وی تکنیک کے حامل ڈیبٹ کارڈز موجودہ دور میں زیادہ موثر اور محفوظ ہے کیونکہ ان میں ایک چپ لگی ہوتی ہے اور دو طرز پر شناخت کا عمل بھی کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک نے پیمنٹ کارڈز کی سیکیورٹی کے قوانین کو 2016 میں جاری کیا تھا جن میں بینک کو ای ایم وی کے لیے انفراسٹرکچر کی تیاری اور 30 جون 2018 تک ای ایم وی کارڈز کے اجراء کا حکم دیا گیا تھا۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینک صارفین کو محفوظ رقم کی منتقلی کے نظام کی یقین دہانی کرائی ہے جس کے لیے بینکوں سے تعاون کے ساتھ ہر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔


یہ خبر 6 دسمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی