پشاور: جمعیت علماء اسلام (س) کی مجلس شوریٰ نے آئندہ عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے ساتھ ممکنہ سیاسی اتحاد کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مل کر انتخابی محاذ لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔

واضح رہے کہ ایم ایم اے مذہبی جماعتوں کا دفاعی اتحاد ہے جس کی موثر بحالی کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے بتایا کہ پارٹی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے متفقہ طور پر ایم ایم اے میں شمولیت کو مسترد کیا اور اجلاس میں پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد پر بھرپور اتفاق کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (س) اور پی ٹی آئی کا سیاسی اتحاد آئندہ برس عام انتخابات میں ‘لبرل اور سیکولر طاقتوں’ کی کامیابی کا راستہ روکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بیرونی طاقتیں عام انتخابات میں کامیابی کے ذریعے لبرل اور سیکولرگروہوں کو لانا چاہتی ہیں۔

یہ پڑھیں : سابق آئی ایس آئی افسر اور پرویز خٹک کی مولانا سمیع الحق سے ملاقات

مولانا سمیع نے واضح کیا کہ ‘دنوں پارٹیوں کا اتحاد ملک میں اسلامی نظام کی ترویج کے لیے راستہ ہموار کرے گا’، انہوں نے اسلامی نطریات اور پاکستان کی شناخت کے تحفظ کے لیے مذہبی جماعتوں پر تعاون بڑھانے کے لیے زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘عام انتخابات لڑنے کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم سے تمام مذہبی گروہوں میں اتحاد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھوں گا’.

جے یو آئی (س) کے سربراہ نے واضح کیا کہ ‘میرے اور عمران خان کے مابین ایک گہری ذہنی ہم آہنگی ہے اور عمران نے بھی انہی خیالات کا اظہار کیا ہے’.

مولانا سمیع نے مزید کہا کہ سیاسی اتحاد کے بعد پی ٹی آئی علماء کا احترام کرتے ہوئے اپنا ‘کلچر اور روایات’ چھوڑ دے گی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی مرکزی کمیٹی نے بھی جمعیت علماء اسلام (س) کے ساتھ سیاسی اتحاد کی تصدیق کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 2018 انتخابات: پی ٹی آئی اور جے یو آئی (س) مشترکہ لاحہ عمل بنانے پر متفق

جے یو آئی (س) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے سیاسی اتحاد میں دیگر مذہبی جماعتوں کو آمادہ کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ جمعیت علماء اسلام (س) کی مجلس شوریٰ نے ایم ایم اے کے ساتھ شمولیت کا اس وقت انکار کیا جب دیگر چھ مذہبی جماعتیں رواں مہینے 13 دسمبر کو کراچی میں باقاعدہ سیاسی اتحاد کا اعلان کرنے والی تھیں۔

جمعیت علماء اسلام (ف)، جماعت اسلامی (جے آئی)، تحریک اسلامی، جمعیت علماء پاکستان (نورانی)، جمعیت الحدیث (ساجد میر) کے رہنماؤں نے لاہور میں ملاقات کی تھی اور ایم ایم اے کی بحالی پر اتفاق کا کیا تھا۔

مولانا سمیع الحق نے لاہور میں اجلاس کے بعد پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک سے اسلام آباد اور اکٹورہ خٹک میں علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی تھیں۔

گزشتہ مہینے بھی دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی اتحاد کے امکان پر بھی خبریں گردش میں تھیں۔

خیبر پختونخوا حکومت نے مالی سال 17-2016 کے بجٹ میں دارلعلوم حقانیہ کے لیے 30 کروڑ روپے مختص کیے تھے جبکہ جے یو آئی (س) نے حالیہ ضمی الیکشن میں حلقہ این اے 4 میں پی ٹی آئی کے امیدوار کی حمایت بھی کی تھی۔

یاد رہے کہ مولانا سمیع الحق کا خاندان گذشتہ کئی برسوں سے دارالعلوم حقانیہ کے انتظامی امور دیکھ رہا ہے۔

جماعت اسلامی کو دھچکا

جمعیت علماء اسلام (س) کا پی ٹی آئی کے ساتھ انتخابی اتحاد کے فیصلے پرجے آئی کے صوبائی سربراہ مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ مولانا سمیع الحق کے فیصلے پر انہیں شدید دھچکا لگا ہے اور وہ سربراہ (مولانا سمیع الحق) سے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں زور دوں گا کہ مولانا سمیع الحق اپنے فیصلے سے دستبردار ہو جائیں اور ایم ایم اے کے رہنما انہیں اس عمل کے لیے آمادہ کریں’۔

واضح رہے کہ مولانا سمیع الحق دفاعِ پاکستان کونسل (ڈی پی سی) کے سربراہی کررہے ہیں جو 40 مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے جس میں جماعت الدعوۃ کے حافظ سعید بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل مولانا سمیع الحق دیگر مذہبی جماعتوں اور ڈی پی سیز کو ایم ایم اے میں ضم کرنے کی تجویز بھی پیش کر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں : طالبان کا دوست نہیں ہوں، مولانا سمیع الحق

مولانا سمیع الحق نے ایم ایم اے کے رہنماؤں خصوصاً مولانا فضل الرحمن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2002 کے عام انتخابات میں کامیابی اور خیبر پختونخوا میں حکومت کے بعد بھی ایم ایم اے (ملک میں ) اسلام کے لیے اقدامات کرنے سے قاصر رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں حکومت بنانے اور پارلیمان میں ایوان بالا اور ایوان زیریں میں 70 نشتوں کے باوجود ایم ایم اے نے اسلامی نظام کے لیے آواز بلند نہیں کی۔

انہوں نے مثال دے کر واضح کیا کہ ‘عقلمند انسان ایک ہی سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا’اگر چہ وہ ایم ایم اے کے بانی تھے لیکن ‘دیگر’ نے اتحاد کو یرغمال بنا لیا۔

مزید پڑھیں : امریکا کا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا عندیہ

مولانا سمیع نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو ‘بادشاہ’ قراردیتے ہوئے کہا کہ مولانا (فضل الرحمن) نے اتحاد کو اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا۔

بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا سمیع الحق نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ‘شیطانی انسان’ کا لقب دیا اور مسلم دنیا پر زور دیا کہ وہ امریکی رہنماؤں کو فلسطینیوں کی توہین کرنے سے روکیں۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 7 دسمبر 2017 کو شائع ہوئی