سندھ حکومت کی جانب سے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) اے ڈی خواجہ کو عہدے سے ہٹانے کی تازہ کوشش کے خلاف سوسائٹی کی تنظیم نے صوبائی حکومت سے فیصلے سے دستبرداری کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے وکیل کے ذریعے قانونی نوٹس بھیج دیا۔

سول سوسائٹی تنظیم نے قانونی نوٹس کے ذریعے سندھ حکومت کو وفاقی حکومت کو لکھے گئے خط سے دستبردار ہونے یا پھر عدالتی حکم عدولی سمیت قانونی کارروائی کے سامنے کے لیے تیار رہنے کی تنبیہہ کی ہے۔

واضح رہے کہ 30 دسمبر کو ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اے ڈی خواجہ کو عہدے سے ہٹانے اور تین ناموں پر مشتمل پی ایس پی افسران کی ترجیحی فہرست وفاقی حکومت کو بھیجنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

سندھ حکومت کی جانب سے بی پی ایس 22 گریڈ کے افسر سردار عبدالمجید، گریڈ 21 کے افسر غلام قادر تھیبو اور گریڈ 21 کے ہی افسر ڈاکٹر کلیم امام کے نام شامل کیے گئے تھے۔

وفاقی حکومت کو لکھے گئے خط کے مطابق سندھ حکومت نے سردار عبدالمجید کے نام پر زور دیتے ہوئے ان کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا ہے۔

صوبائی چیف سیکریٹری کو ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کے ذریعے بھیجے گئے سول سائٹی تنظیم کے قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آئی جی کو عہدے سے ہٹانا مکمل طور پر غیرقانونی ہے اور کابینہ کی جانب سے ایجنڈا میں نہ ہونے کے باوجود معاملہ کو اٹھانا سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی نفی ہے۔

مزید پڑھیں:آئی جی سندھ کو عہدے پر برقرار رکھنے کا حکم

قانونی نوٹس میں وکیل نے سندھ حکومت کے سابقہ اس موقف کو نمایاں کیا ہے جس میں ان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ایک 22 گریڈ کے افسر کی موجودگی میں 21 گریڈ کے افسر کو عہدے کے لیے منتخب نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ اس فہرست میں دو نام 21 گریڈ کے افسران کے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ نے 20 دسمبر 2017 کو صوبائی حکومت کو کابینہ کے اجلاس میں صوبائی پولیس سربراہ کی جانب سے تیار کردہ محکمے میں تعیناتی اور تبادلوں کے حوالے سے نئے ڈرافٹ کو مدنظر رکھنے کا حکم دیا تھا۔

صوبائی کابینہ نے تیکنیکی بنیادوں پر اس معاملے کو نہیں اٹھایا تھا۔

یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے اپنے پہلے فیصلے میں کہا تھا کہ صوبائی حکومت بغیر کسی وضاحت کے آئی جی کو نہیں ہٹا سکتی۔

عدالت نے حکومت انیتا تراب کیس کے فیصلے کو مدنظر رکھنے کو ضروری قرار دیا تھا جس کے تحت آئی جی کو ان کی تعیناتی کے تین سال مکمل ہونے سے قبل نہیں ہٹایا جاسکتا ہے۔

اے ڈی خواجہ کا سندھ حکومت سے جھگڑا

خیال رہے کہ اے ڈی خواجہ کو سندھ حکومت کی جانب سے غلام حیدر جمالی کی برطرفی کے بعد گذشتہ برس مارچ میں آئی جی سندھ کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

تاہم مخصوص مطالبات کو ماننے سے انکار کے باعث اے ڈی خواجہ سندھ کی حکمراں جماعت کی حمایت کھوتے گئے۔

محکمہ پولیس میں نئی بھرتیوں کا اعلان کیا گیا تو اے ڈی خواجہ نے میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی تھی جس میں فوج کی کور فائیو اور سٹیزنز پولیس لائزن کمیٹی (سی پی ایل سی) کے نمائندے بھی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی جی سندھ کی 'جبری رخصت' پر حکم امتناع

اے ڈی خواجہ کے اس اقدام نے سندھ حکومت کے اُن ارکان کو ناراض کردیا جو ان بھرتیوں میں اپنا حصہ چاہتے تھے تاکہ آئندہ عام انتخابات سے قبل ووٹرز کو خوش کرسکیں۔

جس کے بعد گذشتہ سال دسمبر میں صوبائی حکومت نے اے ڈی خواجہ کو جبری رخصت پر بھیج دیا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اے ڈی خواجہ کو ہٹانا چاہتی ہے، لیکن وفاقی حکومت اس کے خلاف ہے۔

مزید پڑھیں:اے ڈی خواجہ کی معطلی کے خلاف درخواست 'سازش': سندھ حکومت

تاہم وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ آئی جی سندھ 15 دن کی چھٹی پر گئے تھے اور انھوں نے خود اس کی درخواست دی تھی۔

بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو اے ڈی خواجہ کو رخصت پر بھیجنے سے روک دیا تھا، جس کے بعد رواں سال جنوری میں اے ڈی خواجہ نے اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال لی تھیں۔