بولی وڈ مسٹر پرفیکشنسٹ کی فلم ’پی کے‘ تو بھارت میں مختلف مذاہب کی جعل سازیوں کو فاش کرنے پر مبنی تھی، جس وجہ سے شاید اسے روکا نہیں گیا، تاہم سنی دیول کی ایک فلم گزشتہ 2 سال سے پابندی کا شکار تھی۔

اگرچہ بولی وڈ میں سیاسی و تاریخی واقعات کی فلموں کو بھی پابندی یا کافی عرصے تک بندش کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم اس حوالے سے مذہبی معاملات پر بنی فلموں کو زیادہ ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس کی مثال سنی دیول کی فلم ’ محلہ آسی‘ بھی ہے، جسے 2 سال کی قانونی جنگ کے بعد عدالت نے ریلیز کرنے کی اجازت دیدی، تاہم اس کے باجوود سینسر بورڈ نے فلم کو ’اے‘ سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (سی بی ایف سی) کے مطابق ’اے‘ سرٹیفکیٹ اس فلم کو جاری کیا جاتا ہے، جسے صرف بالغ افراد ہی دیکھ سکتے ہیں۔

ایسی فلموں میں تشدد، حساس موضوعات اور نامناسب سین ہوتے ہیں، جس وجہ سے انہیں صرف بالغان کے لیے محدود کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قابل اعتراض فلم کو نمائش کی اجازت
—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

ایسٹرن آئی کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے 2 سال تک کیس کی سماعت کے بعد سنی دیول کی فلم ’محلہ آسی‘ کے حق میں فیصلہ دیا۔

عدالت کی جانب سے اجازت ملنے کے فوری بعد سی بی ایف سی نے بھی اسے سرٹفیکیٹ جاری کردیا، تاہم فلم کی ٹیم کا کہنا ہے کہ اسے فوری طور پر ریلیز نہیں کیا جائے گا۔

فلم پروڈیوسر ونے تیواری کے مطابق وہ اس بات پر بہت خوش ہیں کہ عدالت نے بالآخر ان کی فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت دے دی۔

ونے تیواری کا کہنا تھا کہ ’محلہ آسی‘ کو ہولی سے قبل نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ’محلہ آسی‘ کی کہانی 2004 میں شائع ہونے والے کاشی ناتھ سنگھ کے معروف ناول ’کاشی کا آسی‘ سے ماخوذ ہے۔

مزید پڑھیں: متنازع فلم کو نمائش کی اجازت

فلم کی کہانی دریائے گنگا کے کنارے آباد بھارت کے مقدس شہر سمجھے جانے والے بنارس (وارناسی) میں ہندو مذہبی پیشواؤں کے گورکھ دھندے کے گرد گھومتی ہے۔

فلم میں بنارس میں ہندو گروؤں کی جعل سازیوں اور شہر میں آنے والے غیر ملکی سیاحوں کو ہندو مت سے متعلق غلط معلومات فراہم کرنے جیسے معاملات کو فاش کیا گیا ہے۔

فلم کی دیگر کاسٹ میں روی کشن، ساکشی تنور، سوربھ شکلا، مکیش تیواری اور راجندرا گپتا شامل ہیں، ونے تیواری کی اس فلم کی ہدایات چندر پرکاش دیویدی نے دی ہیں۔

فلم کی شوٹنگ کا آغاز 2011 میں کیا گیا تھا، جب کہ فلم کو مکمل طور پر 2014 کے آخر میں مکمل کرلیا گیا تھا، تاہم حساس معاملے پر مبنی ہونے کی وجہ سے اسے نمائش کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

فلم کی ٹیم نے نمائش کی اجازت کیلئے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں 2 سال سے سماعت جاری تھی۔