بھارتی سپریم کورٹ کے چار ججز نے چیف جسٹس پر عوامی سطح پر تنقید کا غیر معمولی اقدام اٹھاتے ہوئے تنبیہ کی کہ غیر جانبداری میں کمی سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق اپنی ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران ججز نے کہا کہ وہ چیف جسٹس دیپک مِشرا سے اپنے اختلافات نجی ملاقاتوں میں ان کی شکایات دور نہ ہونے کے بعد سامنے لارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بھارت کی عدالت عظمیٰ کے معاملات چلانے میں کئی مسائل ہیں، تاہم ان مسائل کے حوالے سے انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

تاہم بھارتی میں ریلیز ہونے والے خط میں ججز کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس مبینہ طور پر جانبداری کا مظاہرہ اور عدالتی اصولوں کے خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی پسند کے مطابق مختلف بینچوں کو کیسز متعین کرتے ہیں، جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔

جسٹس جَستی چیلامیشور نے صحافیوں کو بتایا کہ ’سپریم کورٹ کی انتظامیہ اپنا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کر رہی اور گزشتہ چند ماہ کے دوران ایسی کئی باتیں رونما ہوئی ہیں جن کی خواہش نہیں کی جاسکتی۔‘

مزید پڑھیں: بھارتی سپریم کورٹ کی حکومت کو گاؤ رکھشا کو روکنے کی ہدایت

انہوں نے کہا کہ ’اگر عدلیہ غیر جانبدار نہیں رہی تو ملک میں جمہوریت باقی نہیں رہے گی۔‘

عوام کے سامنے آنے والے چیف جسٹس دیپک مشرا کو لکھے گئے خط میں ججز کا مزید کہنا تھا کہ وہ ادارے کو شرمندگی سے بچانے کے لیے اپنے خدشات کی تفصیلات سامنے نہیں لائیں گے۔

تاہم چاروں ججز میں سے ایک جج کا کہنا تھا کہ ان کے خدشات 2014 میں موت کا شکار ہونے مقامی عدالت کے جج بی ایچ لویا کے کیس سے متعلق ہیں، جن کی موت حکمراں جماعت کے سینئر سیاستدان کے کیس کا حتمی فیصلہ سنانے سے چند روز قبل ہوئی جس میں انہیں قتل کا حکم دینے کا ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔

بی ایچ لویا کی موت کو طبعی بتایا گیا تاہم سپریم کورٹ میں ان کی موت سے متعلق لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے مطالبے کی درخواست زیر سماعت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ججز کی جانب سے ملک کی عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کو عوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ بھارت میں سپریم کورٹ کے پاس کافی اختیارات ہیں اور ماضی میں وہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین کو عوام کے حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے منسوخ کرچکی ہے۔

سپریم کورٹ کے چاروں ججز کے پریس کانفرنس کے اقدام پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔