سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو انتخابات میں حق رائے دہی دینے سے متعلق مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے فریق بننے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو اس حوالے سے الگ درخواست دائر کردیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کی سہولت دینے سے متعلق کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران سیکریٹری الیکشن کمیشن پاکستان ( ای سی پی) بابر یعقوب فتح محمد اور کیس میں فریق بننے کی درخواست کرنے والے پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے وکیل انور منصور پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس اور سیکریٹری الیکشن کمیشن کے درمیان مکالمہ ہوا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمان کی جانب سے قانون بننے کے بعد دو ضمنی الیکشن ہوئے، کیا ضمنی الیکشن میں بیرون ملک مقیم افراد کو ووٹ کا حق دیا گیا؟

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا سمندرپارپاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلانے کیلئے عدالت سے رجوع

جس پر سیکریٹری ای سی پی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نادرا کو سافٹ ویئر بنانے کے لیے خط لکھا تھا جبکہ نادرا نے باضابطہ معاہدے کے لیے دستاویزات بھجوا دی ہیں تاہم نادرا کی دستاویزات قانون کے بنیادی نقاط کے مطابق نہیں ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا پڑوسی ممالک میں بیرون ملک مقیم افراد ووٹ ڈال سکتے ہیں، جس پر سیکریٹری الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ بھارت میں بیرون ملک میں موجود افراد براہ راست ووٹ نہیں ڈال سکتے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارلیمان نے اپریل 2013 کے عدالتی فیصلے کو قانون بناتے وقت مدنظر نہیں رکھا حالانکہ سپریم کورٹ کی جانب سے بار بار واضح کیا گیا ہے کہ پارلیمان سپریم ہے، کیا ووٹ کا حق دینا سپریم کورٹ کا کام ہے؟

سیکریٹری الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئین نے بیرون ملک مقیم افراد کو ووٹ کا حق دیا ہے، اس سلسلے میں آپ کو جو اقدامات کرنے ہیں کریں، آپ شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کروائیں، تاریخ آپ کو یاد کرے گی۔

سماعت کے دوران تحریک انصاف کے فریق بننے سے متعلق درخواست پر چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی کو فریق نہیں بنائیں گے، اگر وہ چاہیں تو اس حوالے اپنی الگ درخواست دائر کردیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی سب سے زیادہ امداد تحریک انصاف کو دیتے ہیں، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اس معاملے میں پی ٹی آئی نے اسمبلی میں کنتا کردار ادا کیا۔

انھوں نے کہا کہ ووٹ دینے کے وقت سب نظر آجائے گا کہ کس نے کس کا کتنا ساتھ دیا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھیں گے کہ پارلیمان میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے کس کو کتنی محبت ہے اور اس حوالے سے تحریک انصاف الیکشن ایکٹ بل پر پارلیمان میں بحث کا ریکارڈ بھی پیش کرے۔

سمندر پار پاکستانیوں سے متعلق کیس میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سیکریٹری الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ این اے 154 کا ضمنی انتخاب آرہا ہے کیا اس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملے گا۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ابھی ووٹ کا حق دینے کے لیے میکانزم تیار نہیں ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ضمنی انتخاب میں ووٹ کا حق دینے کا تجربہ نہیں کرنا تو قانون کی شق کا فائدہ نہیں،لگتا ہے قانون کی دفعہ 94 پر عمل نہیں ہوسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر میں پاکستانی تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ

چیف جسٹس نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہیں دینا تو بتا دیں۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں شفاف الیکشن ہونے چاہیے اور بیرون ملک موجود پاکستانی ووٹ کا حق حاصل کرنے کے لیے عدالتوں کے دھکے کھارہے ہیں، سیکرٹری الیکشن کمیشن قوم کو بتادیے کہ ملک میں آزاد و شفاف الیکشن ہوں گے۔