کراچی: نقیب اللہ محسود قتل کیس کی تحقیقات کے لیے تین مزید پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان پولیس اہلکاروں کی گرفتاری ملیر کے علاقے میں پیش آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ حراست میں لیے گئے پولیس اہلکار ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی ٹیم کے اہم رکن نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نقیب اللہ قتل کیس: انوسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ گرفتار پولیس اہلکار نقیب اللہ محسود قتل کیس کے عینی شاہدین ہیں اور مقتول کی کسٹدی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے میں معاون تھے۔

قبل ازیں نقیب اللہ محسود قتل کیس میں 6 پولیس اہلکار کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ان پولیس اہلکاروں پر سہراب گوٹھ کے علاقے میں واقع ایک ریسٹورنٹ سے نقیب اللہ محسود اور دیگر دو افراد کو حراست میں لینے کا الزام عائد ہے۔

مزید پڑھیں: محسود قبائل کی وزیر اعظم سے ملاقات: نقیب اللہ کے قاتل کی گرفتاری کا مطالبہ

بعد ازاں ان میں سے دو پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے والے پولیس اہلکاروں کی نشاندہی کرنے پر رہا کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں گزشتہ مہینے 13 جنوری کو نقیب اللہ محسود سمیت 4 افراد کو پولیس کی جانب سے ماورائے عدالت قتل کرنے کا واقعہ سامنے آنے کے بعد ملک بھر احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔

اس آپریشن میں ملوث سابق سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راؤ انوار کا بیان سامنے آیا تھا کہ چاروں کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے ہے جبکہ مظاہرین کا کہنا تھا کہ متاثرہ نقیب اللہ محسود ماڈل بننے کا خواہشمند تھا اور اس کا کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق نہیں تھا۔