نقیب اللہ قتل کیس: انوسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

اپ ڈیٹ 26 جنوری 2018

ای میل

کراچی کے ضلع ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں 13 جنوری کو جعلی پولیس مقابلے میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نقیب اللہ محسود سمیت 4 افراد کے قتل کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے 15 صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی جس میں مقابلے کو یک طرفہ قرار دیا گیا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی ثنا اللہ عباسی کی سربراہی میں تفتیشی کمیٹی کی جانب سے تیار کی گئی سر بمہر رپورٹ کو سپریم کورٹ میں جمع کرادیا گیا جس کو ہفتے کے روز ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس کی سر براہی میں بینچ کے سامنے پیش کی جاۓ گی۔

تفتیشی ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ راؤ انوار کی ٹیم نے نقیب اللہ محسود کوجعلی مقابلےمیں ماردیا جبکہ 2 افراد کو مبینہ طورپر رشوت لے کرچھوڑ دیا گیا۔

سپریم کورٹ میں جمع کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رہا کئے گئے دو افراد کے بیانات بھی رپورٹ کا حصہ بنائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نقیب اللہ محسود کو 3 جنوری کو دو دیگر افراد کے ساتھ سہراب گوٹھ سے اٹھایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:’ماورائے عدالت قتل‘ ازخود نوٹس: 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ تیار

راؤ انوار کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جیل میں قید قاری احسان نے راؤ انوار احمد کے الزامات کی تردید کی.

قاری احسان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قتل کیا گیا نقیب محسود وہ نہیں جو پولیس کو مطلوب تھا۔

ثنااللہ عباسی کی سربراہی میں انوسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جائے وقوع سے پولیس کی سب مشین گن کے 26 خول ملے جبکہ چاروں افراد پر یکطرفہ طور پر پولیس کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔

نقیب اللہ کا قتل

یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کو 13 جنوری کو ایس ایس پی راؤ انوار کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاص خیلی گوٹھ میں مقابلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔

یہ بھی پڑھیں:’پولیس مقابلے میں نوجوان کا قتل‘، بلاول بھٹو اور وزیر داخلہ سندھ نے نوٹس لے لیا

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے اس وقت الزام لگایا گیا تھا کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد دہشت گردی کے بڑے واقعات میں ملوث تھے اور ان کے لشکر جنگھوی اور عسکریت پسند گروپ داعش سے تعلقات تھے۔

تاہم اس واقعے کے بعد نقیب اللہ کے ایک قریبی عزیز نے پولیس افسر کے اس متنازعہ بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مقتول حقیقت میں ایک دکان کا مالک تھا اور اسے ماڈلنگ کا شوق تھا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے نقیب اللہ کے ’ماورائے عدالت قتل‘ کا نوٹس لے لیا

بعد ازاں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر یہ معاملہ اٹھا تھا جس کے بعد وزیر داخلہ سندھ اور بلاول بھٹو نے واقعے کا نوٹس لیا تھا اور تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

تحقیقات کے حکم کے بعد ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی کی سربراہی میں ایک تفتیشی کمیٹی بنائی گئی تھی، جس میں ڈی آئی جی شرقی اور ڈی آئی جی جنوبی بھی شامل تھے۔

ابتدائی طور پر راؤ انورا اس کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے اور بیان ریکارڈ کرایا تھا، تاہم اس دوران آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے احکامات کی روشنی میں انہیں معطل کردیا گیا تھا۔