الیکشن کمیشن آف پاکستان ( ای سی پی ) نے لودھراں میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154 کے ضمنی انتخبات کے نتائج کا اعلان کردیا، جس کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اقبال شاہ نے ایک لاکھ 13 ہزار 827 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے امیدوار علی ترین 87 ہزار 571 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

واضح رہے کہ یہ نشست تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔

الیکشن کمشین کے اعلان کردہ نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نے تحریک انصاف کے امیدوار کو 26 ہزار 256 ووٹ سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔

اس سے قبل غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک لبیک یارسول اللہ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار نے 10 ہزار 181ووٹ حاصل کرکے تیسری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار نے 3 ہزار 170 ووٹ حاصل کیے تھے۔

غیر حتمی نتائج سامنے آنے کے فوری بعد پاکستان مسلم لیگ کی رہنما اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ٹویٹر میں اپنے پیغام میں کہا کہ 'لاکھوں بار الحمداللہ، ہمیں اللہ کے شکر میں ہمارے سر جھکے ہوئے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'نوازشریف کے خلاف سازشوں کو اللّہ نے نوازشریف کی طاقت بنا دیا! اب بھی سمجھ جاؤ، فیصلے اللّہ کے چلتے ہیں ! اسی نظام پر دنیا قائم ہے!'۔

مریم نواز نے اپنے ٹویٹس میں کہا کہ 'عوام نے واضح کردیا کہ ووٹ کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دیا جائیگااور نوازشریف کی قیادت میں ووٹ کی حُرمت کا کارواں منزل پر پہنچ کر ہی دم لے گا!'۔

ووٹ کے تقدس کی بات کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر انھوں نے کہا کہ 'عوام کے فیصلوں کی توہین ہوتی ہے تو ان کے فیصلے بھی سخت ہوجاتے ہیں، ان کے وزیر اعظم کو نکالا جائے تو وہ بھی نوٹس لیتے ہیں، عوام کا فیصلہ واضح ہے، ووٹ کوعزت دو، عدل کو بحال کرو، یہ نظریہِ نواز ہے جو ِدلوں میں گھر کر گیا ھے! کہا تھا نہ "روک سکو تو روک لو؟"۔

حلقہ این اے 154 کی نشست پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے علی خان ترین اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پیراقبال شاہ کے مابین کانٹے کا مقابلہ متوقع تھا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے اُمیدوار مرزا علی بیگ سمیت 7 آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود تھے۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے شکست کے بعد اپنے پیغام میں کہا کہ کارکنان این اے 154 ضمنی انتخاب کے نتیجے پر اداس نہ ہوں، ہررکاوٹ غلطیاں سدھار کر مزید مضبوط بن کر آگے بڑھنے کا پیغام دیتی ہے اور کامیاب لوگ اور ادارے اپنی غلطیوں سے سیکھتےہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنی سیاسی جدوجہد میں کبھی میراحوصلہ پست نہیں ہوا، میں مشکلات کا سامنا کرکے مزید مضبوط ہوا اور ان شاءاللہ 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کامیاب ہوگی۔

واضح رہے کہ حلقہ 154 کی نشست پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی جس کے بعد پی ٹی ائی نے ضمنی انتخاب کے لیے ان کے بیٹے علی ترین کو میدان میں اتارا تھا۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ برس دسمبر میں جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا تھا۔

یہ پڑھیں: سپریم کورٹ: عمران خان اہل اور جہانگیر ترین نااہل قرار

الیکشن کمیشن آف پاکستان (پی ای سی) کے مطابق حلقہ 154 کے ضمنی انتخابات میں رجسٹر ووٹوں کی تعداد 4 لاکھ 31 ہزار 2 ہے۔

امن و امان برقرار رکھنے کے لیے لودھراں ضمنی انتخابات کے دوران 3 ایس پیز، 6 ڈی ایس پیز، 9 انسپکٹرز، 78 سب انسپکٹرز، 332 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، 1294 ہیڈ کانسٹیبلز، 128 لیڈی کانسٹیبلز، 8 ریزرو ہائے اور 15 ایلیٹ ٹیموں کو ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا تھا۔

حلقے میں کل 338 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے تھے جس میں 49 مردانہ، 49 زنانہ اور 240 مشترکہ پولینگ اسٹیشن قائم تھے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 6 پولنگ اسٹیشنز کو اے پلس کیٹیگری یعنی حساس ترین قرار دیا گیا تھا جبکہ 41 کو اے کیٹیگری اور دیگر 291 کو بی کیٹیگری میں رکھا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: صدیق بلوچ کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ کالعدم

کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پولیس کے ساتھ فوج کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ لودھراں حلقہ این اے 154 میں 4 برسوں میں تیسری مرتبہ ضمنی انتخاب ہوا جبکہ تین بڑی سیاسی پارٹیوں کے تینوں رہنما پی ٹی آئی کے علی ترین، مسلم لیگ (ن) کے پیر اقبال شاہ اور پیپلز پارٹی کے مرزا علی بیگ پہلی مرتبہ ضمنی انتخابات کے اکھاڑے میں حصہ لے رہے تھے۔

الیکشن کمیشن نے 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں جہانگیر ترین کے حریف آزاد امید وار محمد صدیق خان بلوچ کو کامیاب قرار دیا تھا جس کے بعد جہانگیر ترین نے اپنے حریف کی جانب سے حلقہ این اے 154 میں مبینہ دھاندلی کا مقدمہ دائر کیا تھا اور الیکشن ٹربیونل نے 26 اگست کو جہانگیر ترین کا موقف درست قرار دیتے ہوئے دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے حکم پر 23 دسمبر 2015 کو منعقدہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے جہانگیرترین نے 37 ہزار کی برتری سے مسلم لیگ ن کے صدیق بلوچ کو شکست دی تھی بعدازاں مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پر سپریم کورٹ نے دسمبر 2017 میں جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62 کے تحت نااہل قرار دیا تھا۔

مزید پڑھیں: این اے-154 : فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مد نظر رکھتے ہوئے جہانگیرین کو این اے حلقہ 154 سے ڈی سیٹ کیا اور دوبارہ ضمنی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے رواں ماہ این اے 154 کے جلسے میں شرکت کی جس پر الیکشن کمیشن نے عمران خان کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس لیا اور جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کو طلب کیا تھا۔

پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں پر جرمانہ عائد

الیکشن کمیشن نے حلقہ این اے 154 کے ضمنی انتخاب کے ضابطہ اخلاق کی ورزی کرنے پر پی ٹی آئی کے علی خان ترین کو 40 ہزار روپے اور مسلم لیگ (ن) کے پیراقبال شاہ پر 30 ہزار روپے جرمانہ لگا دیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی حلقے این اے 154 میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیر مملکت اوورسیز پاکستانی عبدالرحمن خان کانجو نے امیدوار محمد اقبال شاہ کی انتخابی مہم کا حصہ بنے اور کارنرز میٹنگ میں شرکت کی جو انتخابی ضابطہ اخلاق کے منافی ہے۔

الیکشن کمیشن نے حتمی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے لیگی امیدوار محمد اقبال شاہ کو 30 ہزارروپے جرمانہ عائد کردیا تھا۔

دوسری جانب اسی انتخابی حلقے میں پی ٹی آئی کے امیدوار اور جہانگیر ترین کے بیٹے علی خان ترین کو بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 40 ہزارروپے جرمانہ عائد کیا۔

واضح رہے کہ رواں مہینے لودھراں میں پی ٹی آئی کے جلسے میں عمران خان اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے جلسے میں شرکت کی جس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا اور جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کو طلب کیا تھا۔