ایم کیوایم پاکستان کی کنوینر شپ کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے دائرہ اختیار سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

الیکشن کمیشن نے فاروق ستار کی کنوینئرشپ کے معاملے پر حکم امتناعی دینے کی درخواست بھی مسترد کردی۔

الیکشن کمیشن میں ایم کیو ایم پاکستان کی کنوینرشپ سے متعلق کیس کی سماعت چیف الیکشن کمیشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے کی۔

سماعت کے دوران چیف الیکشن کمیشنر سردار رضا نے خالد مقبول صدیقی کے وکیل فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ ایم کیو ایم کی کنوینر شپ کا جھگڑا صرف ہمارے سامنے ہی ہے یا باہر بھی ہے؟

انہوں نے سوال کیا کہ بتائیں ایم کیو ایم پاکستان کب رجسٹرڈ ہوئی۔

ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ کے بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے آئین کے مطابق تمام اختیارات رابطہ کمیٹی کے پاس ہیں۔

مزید پڑھیں: ایم کیو ایم کنوینر شپ معاملہ: فاروق ستار نے ای سی پی کا دائرہ اختیار چیلنج کردیا

ان کا کہنا تھا کہ فریقین الیکشن کمیشن میں ایم کیو ایم کے جمع شدہ آئین پر متفق ہیں جبکہ فاروق ستار نے اپنی مرضی سے پارٹی آئین میں ترمیم کروائی اور رابطہ کمیٹی کے شور مچانے پر فاروق ستار نے ترمیم واپس لی تھی۔

فروغ نسیم نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے انٹرا پارٹی انتخابات 2016 میں ہوئے تھے اور پارٹی آئین کے مطابق اگلے انٹراپارٹی انتخابات 2020 میں ہونے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رابطہ کمیٹی نے پارٹی آئین کے آرٹیکل انیس اے کے تحت ٹکٹ کا اختیار فاروق ستار سے لے کر خالدمقبول صدیقی کو دیا۔

الیکشن کمیشن کے رکن ارشاد قیصر نے کہا کہ لگتا ہے انہوں نے آپ کو اور آپ نے انکو پارٹی سے نکال دیا ہے جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ رابطہ کمیٹی نے پہلے فاروق ستار کو ہٹایا، اگلے دن فاروق ستار نے اعلان کیا کہ میں رابطہ کمیٹی کو ختم کر رہا ہوں جبکہ کنوینئر اپنی مرضی سے رابطہ کمیٹی اور جنرل ورکرز کا اجلاس بھی نہیں بلا سکتا۔

فروغ نسیم نے کہا کہ فاروق ستار کو پارٹی سے نہیں نکالا گیا نوٹس بورڈ پر رابطہ کمیٹی کا فیصلہ لگایا گیا اس کے بعد فاروق ستار خود نہیں آئے۔

چیف الیکشن کمیشنر نے استفسار کیا کہ مرکزی رابطہ کمیٹی کا اجلاس کون طلب کرتا ہے جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ ایم کیو ایم کے آئین میں یہ واضح نہیں کہ میٹنگ کون بلائے گا عام حالات میں اجلاس کے بارے میں نوٹس بورڈ پر لگا دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فاروق ستار نے فراڈ انٹراپارٹی الیکشن کروا کر الیکشن کمیشن کو دھوکہ دینے کی کوشش کی۔

فروغ نسیم نے فاروق ستار کے انٹراپارٹی انتخابات سے متعلق میڈیا رپورٹس الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ فاروق ستار نے انٹرا پارٹی انتخابات میں ایم کیو ایم حقیقی کو بلایا۔

انہوں نے بتایا کہ فاروق ستار نے آفاق احمد کو خط لکھ کر کہا کہ ملک کے مفاد میں ہمارا ساتھ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فاروق ستار نے ووٹرز کی عدم دلچسپی سے گھبرا کر مصطفیٰ کمال کی جماعت پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کو بھی مدد کیلئے پکارا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ کا عہدہ تاحال تنازعات کا شکار

انہوں نے کہا کہ رابطہ کمیٹی کی دو تہائی اکثریت نے خالد مقبول صدیقی کو کنوینر تسلیم کیا جن کے بیان حلفی الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیئے تھے۔

فاروق ستار کے وکیل بابر ستار نے اپنے حتمی دلائل میں کہا کہ فروغ نسیم نے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کے بجائے پارٹی آئین پر دلائل دئیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی کنوینر شپ کے معاملے کا جائزہ لینا الیکشن کمیشن کے اختیار میں نہیں، الیکشن کمیشن کو کسی پارٹی کے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں ہے۔

بعد ازاں ایم کیو ایم پاکستان کنوینرشپ سے متعلق دائرہ اختیار پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر تے ہوئے فیصلہ 26 مارچ کو سنانے کا اعلان کردیا۔

واضح رہے کہ فاروق ستار نے خالد مقبول صدیقی اور کنور نوید جمیل کی درخواستوں پر الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار چیلنج کیا تھا۔

خیال رہے کہ 1 مارچ کو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سابق سربراہ اور رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے پارٹی کنوینر شپ کے معاملے میں الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کر دیا تھا۔

اس سے قبل 27 فروری کو ایم کیو ایم پاکستان کی کنوینیئرشپ کے معاملے پر الیکشن کمیشن میں بہادر آباد گروپ کے کنوینیئر خالد مقبول صدیقی کی درخواست پر سماعت کے دوران فاروق ستار کے وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی تھی۔

ایم کیو ایم پاکستان اختلافات

واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے درمیان اختلافات 5 فروری کو اس وقت شروع ہوئے تھے جب فاروق ستار کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے لیے کامران ٹیسوری کا نام سامنے آیا تھا، جس کی رابطہ کمیٹی نے مخالفت کی تھی۔

بعدازاں رابطہ کمیٹی اور فاروق ستار کے درمیان کئی مرتبہ مذاکرات کی کوشش کی گئی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئی اور ڈاکٹر فاروق ستار اور ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی اور 6 دن تک جاری رہنے والے اس تنازعے کے بعد رابطہ کمیٹی نے دو تہائی اکثریت سے فاروق ستار کو کنوینئر کے عہدے سے ہٹا کر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو نیا کنوینئر مقرر کردیا تھا۔

بعد ازاں 18 فروری کو ایم کیو ایم پاکستان فاروق ستار گروپ کی جانب سے انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں کارکنان کی رائے سے فاروق ستار ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر منتخب ہوئے تھے۔

تاہم بہادر آباد گروپ کی جانب سے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا اور ڈاکٹر فاروق ستار کو کنوینر ماننے سے انکار کردیا تھا۔

خیال رہے کہ 28 فروری کو الیکشن کمیشن میں سماعت کے دوران ڈاکٹر فاروق ستار کے وکیل نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی درخواست پر جواب جمع کروانے کے لیے مہلت مانگی تھی۔