اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے فیض آباد دھرنا کیس میں تحریک لبیک پاکستان ( ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری سمیت دیگر مفرور ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔

وفاقی دارالحکومت کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے فیض آباد دھرنا سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس دوران خادم رضوی حسین رضوی سمیت مفرور ملزمان کو پیش نہ کیے جانے پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ملزمان کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے اور حکم دیا کہ مقدمات میں نامزد مفرور ملزمان کو گرفتار کرکے آئندہ سماعت پر عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔

خیال رہے کہ خادم حسین رضوی، افضل قادری اور مولانا عنایت مقدمہ نمبر 345، 334 اور 335 میں نامزد ملزم ہیں۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف چالان مکمل نہیں ہوسکا اس لیے مزید کچھ دن کی مہلت دی جائے، جس پر عدالت نے سرکاری وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے پولیس کو 4 اپریل تک حتمی چالان جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

فیض آباد دھرنا: آئی ایس آئی رپورٹ پر عدم اطمینان

دوسری جانب سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے سے متعلق ملک کی اعلیٰ ترین ایجنسی انٹر سروس انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دو ہفتوں میں نئی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید پڑھیں: فیض آباد دھرنا کیس: راجہ ظفر الحق کمیٹی رپورٹ پیش نہ کرنے پر عدالت برہم

سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل بینچ نے فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی جس میں ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل احمد، وزارت دفاع کے نمائندے کرنل (ر) فلک ناز اور جوائنٹ ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) انور علی پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل آج عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وہ ملک سے باہر ہیں۔

جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ آپ نے رپورٹ جمع کراودی ہے، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ہم نے آئی ایس آئی کی رپورٹ عدالت میں جمع کراودی ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جرنل کے جواب پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ آئی آیس آئی کی رپورٹ سے مطمئن ہیں، جس پر ڈپٹی اٹارنی جرنل نے بتایا کہ جی ہم مطمئن ہیں۔

دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ اس رپورٹ میں واضح نہیں کیا گیا کہ یہ آدمی کون ہے اور کرتا کیا ہے، آئی ایس آئی کو معلوم نہیں کہ خادم حسین رضوی کا ذریعہ آمدن کیا ہے؟ اتنا پیسا کہاں سے آرہا ہے؟ اور آپ کہے رہے ہیں کہ آپ رپورٹ سے مطمئن ہیں؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دے کہ اربوں کی املاک تباہ کردی گئی اور آپ کو اس کے اکاؤنٹس تک کا نہیں پتہ، مجھے تو خوف آنے لگا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی ایجنسی کا یہ حال ہے۔

اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئی ایس آئی رپورٹ کے مطابق خادم حسین رضوی معاشی طور پر بدعنوان ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ خادم حسین رضوی مسجد کے چندے سے چل رہا ہے یا کوئی اور ذریعہ معاش ہے؟ جس پر وزارت دفاع کے نمائندے نے بتایا کہ خادم حسین رضوی خطیب ہیں۔

وزارت دفاع کے نمائندے کے جواب پر جسٹس مشیر عالم ریمارکس دیے کہ کیا خطیب کو پیسے ملتے ہیں؟ ہم کسی صحافی سے پوچھ لیں تو اسے آپ سے زیادہ پتہ ہوگا۔

سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے پوچھا تھا کہ خادم حسین رضویٰ کا ذریعہ معاش بتایا جائے، ہم آپ کی رپورٹ سے مطمئن نہیں ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسی نے وزارت دفاع کے نمائندہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی ہماری طرح ٹیکس دہندہ لوگوں کے سامنے جواب دہ ہیں، جس پر وزارت دفاع کے نمائندہ نے بتایا کہ خادم حسین رضوی عطیات اکھٹے کرتے ہیں۔

جس پر قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ پھر یہ لکھ کر دیں کہ وہ دوسروں کے پیسوں پر پل رہے، ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ خفیہ بریفنگ دینی ہے تو بتادیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد دھرنا: کب، کیا اور کیسے ہوا

دوران سماعت آئی بی کے جوائنٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ میں عدالت میں کچھ دستاویزات جمع کرانا چاہتا ہوں، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دے کہ یہ دستاویزات کیا ہیں، یہ تو پریس رپورٹ ہے اور آپ ایسے دکھارہے ہیں جیسے کوئی خفیہ دستاویزات ہوں۔

بعد ازاں عدالت نے آئی ایس آئی کی پیش کردہ رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دو ہفتوں میں نئی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

فیض آباد دھرنا

واضح رہے کہ اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت نے ختم نبوت کے حلف نامے میں متنازع ترمیم کے خلاف 5 نومبر 2017 کو دھرنا دیا۔

حکومت نے مذاکرات کے ذریعے دھرنا پرامن طور پر ختم کرانے کی کوششوں میں ناکامی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیض آباد خالی کرانے کے حکم کے بعد دھرنا مظاہرین کے خلاف 25 نومبر کو آپریشن کیا، جس میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

آپریشن کے خلاف اور مذہبی جماعت کی حمایت میں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، 27 نومبر 2017 کو حکومت نے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے سمیت اسلام آباد دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے، جس میں دوران آپریشن گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

بعد ازاں تحریک لبیک یارسول اللہ کے کارکنان کی رہائی کا آغاز ہوگیا اور ڈی جی پنجاب رینجرز میجر جنرل اظہر نوید کو، ایک ویڈیو میں رہا کیے جانے والے مظاہرین میں لفافے میں ایک، ایک ہزار روپے تقسیم کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔