اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری اطلاعات فواد چوہدری نے واضح کیا ہے کہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کسی سیاسی حریف کے ’مد مقابل‘ کھڑی نہیں ہو گی اور ساتھ ہی عندیہ دیا کہ آنے والے وقت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حیثیت ’متحدہ قومی موومنٹ‘ جیسی ہونے والی ہے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی جانب سے پارٹی کی مرکزی قیادت اور پارلیمانی بورڈ کے علیحدہ علیحدہ اجلاس سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ’ہمیں انتظار ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا، کیا وہ باقاعدہ پارٹی کی حیثیت قائم رہ سکے گی یا پھر متحدہ قومی موومنٹ لندن کی طرح سربراہ سے محروم سیاسی جماعت کا رو پ دھار لے گی‘۔

یہ پڑھیں: ’چوہدری نثار کی پی ٹی آئی میں شمولیت کی خبروں میں صداقت نہیں‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں معلوم نہیں کہ پی ٹی آئی کا انتخابات میں مسلم لیگ (ن) یا اس کے کسی دھڑے سے مقابلہ ہوگا‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’پنجاب میں پیپلز پارٹی سے اتحاد کے بارے میں سوچنے سے بہتر ہے کہ خودکشی کرلی جائے، ادھر پی پی پی کا کوئی امیدوار بھی نہیں ہے‘۔

فواد چوہدری نے مسلم لیگ (ن) کے دھڑوں میں تقسیم ہونے اور آئندہ چند دنوں میں ناراض اراکین قومی اسمبلی کی پی ٹی آئی میں شمولیت کی پیش گوئی بھی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نوازشریف اور مریم نواز کا سیاسی سفر اختتام کو پہنچ چکا ہے‘۔

اس حوالے سے سیکریٹری اطلاعات نے مزید کہا کہ مریم نواز ’حادثاتی‘ طور پر سیاست کا حصہ بن گئیں جبکہ نواز شریف کے دونوں بیٹے اپنے والد کی ’جمع‘ کردہ دولت کے ساتھ کاروبار میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’پی ٹی آئی، پی پی پی کی مہربانی سے چیئرمین سینیٹ منتخب ہوا‘

پی ٹی آئی رہنما نے تردید کی کہ سینیٹ چیئرمین کی نشست پر پی پی پی اور پی ٹی آئی کے مابین کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ہوا اور دعویٰ کیا کہ بلوچستان سے نامزد سینیٹرز کے معاملے پر بھی پیپلز پارٹی سے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔

پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو ووٹ کیوں دیا؟ کہ سوال پر انہوں نے کیا کہ ’ہم نے صرف بلوچستان پینل کو ووٹ دیا‘۔

عبوری حکومت سے متعلق انہوں نے بتایا کہ مرکزی قیادت نے عبوی حکومت کے لیے ناموں کی فہرست مرتب کرلی ہے تاہم دیگر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد یہ نام عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ درخواستیں وصول کرنے کی آخری تاریخ 4 مئی ہے جس کے بعد پارلیمانی بورڈ امیدواروں کے نام کا حتمی اعلان کرے گا جبکہ پی ٹی آئی 29 اپریل کو لاہور کے عوامی جلسے سے باقاعدہ ملک گیر انتخابی مہم کا آغاز کرے گی۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی میں شمولیت پرابھی کچھ نہیں کہہ سکتا، چوہدری نثار

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے پی ٹی آئی کے دعوے کو قطعی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’مسلم لیگ انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی اور جنوبی پنجاب سے حریف جماعتوں کے ضمانتی باؤنڈز بھی ضبط ہو جائیں گے‘۔

انہوں نے پی ٹی آئی کو ’غیر جمہوری پارٹی‘ قرار دے دیا۔

دوسری جانب پی پی پی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے غصے کا اظہار کیا کہ جب پی پی پی اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے سیاسی اتحاد سے متعلق خبروں کو تردید کردی ہے تو میڈیا کیوں بار بار سوال اٹھا رہا ہے؟


یہ خبر 15 اپریل 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی