اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت پاکستان کی تمام ایئرلائنز کے سربراہاں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں 12 مئی کو کراچی رجسٹری میں طلب کرلیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ایئرلائنز کمپنیوں میں پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کے معاملے پر کیس کی سماعت کی، اس دوران سول ایوی ایشن ( سی اے اے ) کے ڈائریکٹر ناصر علی شاہ بھی پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران ڈائریکٹر ناصر علی شاہ نے بتایا کہ پی آئی اے، ایئر بلو، شاہین اور سیرین ایئر لائنز کی جانب سے پائلٹس کی ڈگریوں سے متعلق رپورٹ کراچی میں موصول ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: ’وزیر اعظم کا چیئرمین نیب کو پارلیمان طلب کرنا خوش آئند ہے‘

سی اے اے کے نمائندے نے بتایا کہ پی آئی اے میں 1972 افراد کی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل مکمل کیا گیا، اس ایئرلائن میں 24 پائلٹ جعلی ڈگریوں پر کام کر رہے ہیں، ان میں سے 12 پائلٹس نے حکم امتناع لیا ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 4 ماہ سے معاملہ زیر التوا ہے اور رپورٹ جمع نہیں کرائی گئی،بتایا جائے کہ ان کمپنیوں کے سربراہان کون کون ہیں؟ ایئر بلو کے چیف ایگزیکٹو کون ہیں؟

چیف جسٹس کے استفسار پر ڈائریکٹر سول ایوی ایشن نےبتایا کہ ہمیں فراہم کردہ معلومات کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ایئر بلو کمپنی کے سربراہ ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا یہ مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہے؟ ہم تمام ایئر لائنز کے سربراہان کو نوٹسز جاری کررہے ہیں، اس معاملے پر وہ وزیر اعظم کے طور پر نہیں بلکہ سربراہ ایئرلائن کے طور پیش ہونگے۔

وکلاء کی جعلی ڈگریوں کے معاملے پر ازخود نوٹس

علاوہ ازیں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کیس کی سماعت کے دوران ہی وکلاء کی جعلی ڈگریوں کے معاملے پر بھی ازخود نوٹس لےلیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کئی وکلاء ڈگریوں کے بغیر پریکٹس کر رہے ہیں اور کئی ایسے وکلاء ہیں جو لائسنس کے بغیر عدالتوں میں پیش ہورہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کا ٹیکس نادہندگان کیلئے ’ایمنسٹی اسکیم‘ کا اعلان

جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس معاملے پر ہائر ایجوکیشن کمیشن ( ایچ ای سی ) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے بار کونسلز سے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی۔

اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ ایچ ای سی وکلاء کی ڈگریوں کی تصدیق کے معاملے میں تعاون کرے۔