لاہور: پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے 3 مرتبہ کورم مکمل نہ ہونے کی جانب توجہ دلانے کے باوجود حکومتی بینچز نے 45 منٹ میں 12 بل پیش کر کے انہیں منظور بھی کرلیا۔

پنجاب اور خیبر پختونخوا میں طویل دورانیہ کی لوڈ شیڈنگ کے باعث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی عدم موجودگی سے ماحول گرم رہا اور اس دوران رکن اسمبلی ہوا کے لیے ایجنڈے کی کاپیاں استعمال کرتے ہوئے نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں چائلڈ لیبر کے خلاف قرارداد جمع

اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی تو اپوزیشن جماعت کے رکن میاں محمودالرحمٰن نے اسپیکر رانا اقبال کے روسٹرم کے پاس آکر سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف نعرے بازی کی۔

اس سے قبل اسپیکر نے اپوزیشن جماعتوں سے درخواست کی تھی کہ وہ فیئرویل تصویر سیشن میں شمولیت اختیار کریں اور شام کا کھانا ساتھ کھائیں لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) کی خاتون رکن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف نعرے بلند کرنا شروع کردیئے اور یوں اسمبلی میں شور شرابے کا آغاز ہوگا۔

اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ 2 گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوئی تھی۔

میاں محمودالرحمٰن اور دیگر نے کورم مکمل نہ ہونے کی جانب توجہ دلائی اور اسپیکر کی جانب سے نوازشریف کے متنازع بیان پر قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے پر اسمبلی سے واک آؤٹ کرگئے۔

مزید پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں نیب کے خلاف قرار داد منظور، قوانین میں ترمیم کا مطالبہ

اسپیکر نے اجلاس کی کارروائی 5 منٹ کے لیے ملتوی کردی اور اس دوران مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے واپس آگئے اور کورم مکمل کرنے کی کوشش کی تاکہ حکومتی ارکان کی جانب سے ایجنڈے کے تحت 13 بل پیش کیے جاسکیں۔

اس دوران پی ٹی آئی کے آصف محمود نے دوبارہ اسپیکر صوبائی اسمبلی کی توجہ کورم مکمل نہ ہونے کی جانب دلوائی، بعدازاں اسپیکر نے دوبارہ اسمبلی کا اجلاس 5 منٹ کے لیے ملتوی کردیا۔

صوبائی وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور خلیل طاہر نے ڈرگ (پنجاب ترمیم) بل 2018، پنجاب لیگل ایڈ بل 2018 اور پنجاب کرمنل پراسیکیوشن سروس انسپکٹرویٹ بل 2018 پیش کیا۔

انہوں نے پنجاب فرٹیلائزر بل 2018 بھی پیش کیا جسے اسپیکر نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے حوالے کردیا۔

یہ پڑھیں: آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: احد چیمہ کی گرفتاری کےخلاف بینرز آویزاں

اسی طرح دیگر 9 بل بھی ایوان زیریں میں پیش کیے گئے جنہیں قائمہ کمیٹی کی جانب ارسال کردیا گیا۔

اس دوران اپوزیشن جماعتیں کارروائی کا حصہ نہ بن سکیں، اپوزیشن نے ایم بی اے عارف عباسی کو بھیجا جنہوں نے ایک مرتبہ پھر کورم مکمل نہ ہونے کی جانب توجہ دلائی لیکن اس وقت تک حکومتی بینچز کے ایم پی ایز کورم مکمل کرنے کے لیے ایوان میں آچکے تھے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ پنجاب ویٹنس پروٹیکشن بل، پنجاب گورنمنٹ سرونٹ ہاوسنگ فاؤنڈیشن (ترمیم) بل 2018، پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی رسول بل، پنجاب باؤنڈڈ لیبر (ترمیم) بل 2018 سمیت رجسٹریشن بل، پنجاب لینڈ ریونیو، پنجاب ایگرکلچرمارکیٹنگ ریگولیٹر اتھارٹی بل منظور کر لیے گئے۔


یہ خبر 17 مئی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی