مقامی انتظامیہ نے احمدیوں کی ’تاریخی‘ عمارت، ہجوم نے عبادت گاہ مسمار کردی

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے ’شرپسندوں کے حکومتی انتظامیہ کے ساتھ مل کر‘ برادری کی عبادت گاہ اور جماعت کی تاریخی اہمیت کی حامل عمارت مسمار کرنے کی مذمت کی ہے۔

ترجمان کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق سیالکوٹ میں تحصیل میونسپل کمیٹی کے 30 سے 35 ملازمین، جن کے ساتھ پولیس کی نفری بھی موجود تھی، بدھ کی رات حکیم حسام الدین عمارت میں آئے اور اسے منہدم کرنا شروع کردیا۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ’اسی دوران 600 سے زائد شرپسند نعرہ لگاتے ہوئے آئے اس عمل میں شامل ہوگئے اور عمارت کے قریب احمدیوں کی عبادت گاہ کو منہدم کرنا شروع کردیا۔‘

واقعے نے اس وقت سوشل میڈیا کی توجہ حاصل کرلی جب ’ہجوم‘ کی طرف سے مذہبی جگہ کو تباہ کرنے کی تصاویر اور ویڈیوز جمعرات کی صبح گردش کرنا شروع ہوئی۔ حملے کی ایک ویڈیو میں ایک شخص کو لوہے کے ٹکڑے سے مینار توڑتے دیکھا گیا۔

دوسری ویڈیو میں ایک شخص کو، جسے سیاسی رہنما کہا جارہا ہے، ضلعی پولیس افسر، ڈپٹی کمشنر، مذہبی جماعتوں اور ٹاؤن میونسپل انتظامیہ کا عبادت گاہ کے مینارے ہٹانے کے لیے ساتھ دینے پر شکریہ ادا کرتے دکھایا گیا۔

— فوٹو: مقامی ذرائع
— فوٹو: مقامی ذرائع

پریس ریلیز میں ہجوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’ہجوم کی جانب سے گرائی گئی احمدیوں کی عبادت گاہ اور عمارت کی احمدی برادری کے لیے تاریخی اہمیت تھی، جو یہاں ایک صدی سے زائد عرصے سے قائم تھیں۔‘

عمارت کی کچھ عرصے قبل ہی مرمت کی گئی تھی جس کے بعد اسے میونسپل کمیٹی نے سیل کردیا تھا۔

سلیم الدین کا کہنا تھا کہ ’ہم انتظامیہ کے اس عمل کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے، حکومتی انتظامیہ کی جانب سے انتہا پسندوں قوتوں کو خوش کرنے لیے بغیر کسی عدالتی حکم کے تباہ و برباد کرنا اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ سول انتظامیہ نے اپنے ذاتی اور ادارتی مفادات کے لیے مذہب کو استعمال کرنے والوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔‘

انہوں نے اپنی عبادت گاہوں کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنے اور اس نقصان کا زرتلافی ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

ترجمان نے عمارت کو تباہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔

تاہم مقامی انتظامیہ نے اصرار کیا کہ عمارت کو ’غیر قانونی تعمیرات‘ پر مسمار کیا گیا۔

سیالکوٹ میونسپل کارپوریشن کے میئر چوہدری توحید اختر نے ڈان نیوز کو بتایا کہ احمدی برادری نے جو نقشہ میونسپل کارپوریشن سے منظور کروایا تھا اس کے علاوہ انہوں نے 5 مرلہ مزید زمین خریدی، جس کی میونسپل کارپوریشن کو شکایت ملی کہ انہوں نے زمین پر غیر قانونی تعمیر شروع کردی ہے جس پر انہیں کہا گیا کہ اس تعمیر کے لیے نقشہ منظور کروائیں لیکن انہوں نے تعمیر جاری رکھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے اس عمارت کو سیل کیا گیا لیکن تعمیر نہ روکی گئی جس پر میونسپل کارپوریشن نے گزشتہ رات ایکشن لیا اور غیر قانونی طور پر تعمیر ہونے والی عمارت کو مسمار کردیا۔

ہجوم کی طرف سے عبادت گاہ پر حملے سے متعلق چوہدری توحید اختر نے کہا کہ وہ اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی پی او کو اطلاع کرچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم غیر قانونی تعمیر مسمار کرنے گئے تھے، اب یہ پولیس کا فرض ہے کہ وہ واقعے کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کرے۔‘

ڈی پی او اسد سرفراز کا کہنا تھا کہ ’قانون سب کے لیے برابر ہے، واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے جس کے مکمل ہونے کے بعد کارروائی کی جائے گی۔‘

تبصرے (0) بند ہیں