پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے این اے 222 میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امیدوار کو بھاری مارجن سے شکست دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے تھر میں ارباب غلام رحیم سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرلی ہے۔

مٹھی میں کاغذات نامزدگی کی منظوری کے بعد مقامی سماجی رہنما کرشن شرما کی رہائش گاہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی نہ صرف پنجاب اور کے پی میں کلین سویپ کرے گی بلکہ سندھ میں بھی زیادہ نشستیں حاصل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں حکومت بنانے کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت سے بات کی جاسکتی ہے جبکہ پاک سرزمین پارٹی کے حوالے سے ابھی فیصلہ کرنا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے تھر میں ڈاکٹر ارباب غلام رحیم سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ہے اور 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں پی پی پی کو شکست ہوگی۔

پی پی پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی پی پی کی قیادت نے ٹکٹوں کو فروخت کیا اور ننگرپارکر میں ایک آدمی کو مسلط کردیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سندھ میں دس برس تک حکومت کرنے کے باوجود پی پی پی صرف کرپشن کو محفوظ بنا سکی اور عوام کو بھوک و افلاس سے مرتا چھوڑ دیا اور صوبے کے انفرااسٹرکچر کو تباہ کردیا۔

انھوں نے کہا کہ تھر میں معصوم بچوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار پی پی پی حکمران ہیں جبکہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے پر ڈاکٹر ارباب غلام رحیم اور دلاور ملکانی سمیت کئی افراد کو سیاسی جبر کا نشانہ بنایا گیا۔