دو روز سے مشکوک گاڑیاں میرا پیچھا کررہی ہیں، شیری رحمٰن

اپ ڈیٹ 11 جولائ 2018

ای میل

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ دو روز سے مشکوک گاڑیاں ان کا پیچھا کررہی ہیں، دونوں گاڑیوں کے نمبر بھی چیئرمین سینیٹ کو دوں گی۔

سینیٹ اجلاس میں ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ، ہم کالے شیشوں والی گاڑیوں سے ڈرنے والے نہیں۔

قبل ازیں سینیٹ میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما ہارون بلور کی انتخابی مہم پر حملے کی مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے سیاست دانوں کی سیکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا۔

سینیٹ اجلاس میں انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور امیدواروں کی سیکیورٹی کے معاملے پر بحث ہوئی۔

اراکین نے ان معاملات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور وزارت داخلہ اور نیکٹا کو ہدایت کی گئی کہ سینیٹ کمیٹی کو باخبر رکھا جائے۔

سینیٹ اراکین نے اجلاس کی معمول کی کارروائی کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا اور ہارون بلور کی شہادت کے معاملے پر وزیر داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایوان میں پیش ہوکر معاملے سے متعلق آگا کرنے کی ہدایت کردی۔

اپوزیشن لیڈر شیری رحمٰن نے کہا کہ ہارون بلور کی شہادت کا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے اور ہم اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:ہارون بلور کی نماز جنازہ ادا، ٹی ٹی پی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی

سکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دو دنوں سے دو مشکوک گاڑیاں میرا بھی پیچھا کر رہی ہیں، دونوں گاڑیوں کے نمبر بھی چیئرمین سینیٹ کو دوں گی، ہم کالے شیشوں والی گاڑیوں سے ڈرنے والے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن سیاست دانوں کو شدید خطرات ہیں ان کی سیکیورٹی فوری بحال کی جائے۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد حسین نے مطالبہ کیا کہ ہارون بلور پر حملے کی تحقیقات کی جائے اور تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کو معاملے کی تہہ تک پہنچنا چاہیے۔

سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ ہارون بلور کی شہادت صوبائی حکومت کی ناکامی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ انتخابی مہم چلانا ہر امیدوار کا آئینی حق ہے، پشاور میں پیش آنے والا واقعہ تشویش ناک ہے حالانکہ ہم سمجھ رہے تھے کہ دہشت گردی ختم ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کا ذمہ دار ہے، جو سیاسی جماعتیں دہشت گردوں کے نشانوں پر ہیں ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ملک کو سب سے زیادہ نقصان دہشت گردی کے نظریے کو اپنانے سے ہوا، دہشت گردی سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ناطے توڑنے ہوں گے لیکن یہاں بھی ان جماعتوں کو قومی دھارے میں لانے کی بات کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ چند مٹھی بھر دہشت گردوں جن کی کمر بھی ہم توڑ چکے ہیں ان کی نگہداشت کیوں نہیں ہو سکتی، ہم تو دہشت گردوں کو بھاگنے پر مجبور کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اے این پی رہنما کا قتل: پی کے 78 میں انتخابات ملتوی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ اس قسم کے واقعات کی اصل وجوہات کیا ہیں، یہاں تو ہر ایک کا نمبر لگا ہوا ہے اور پسند ناپسند سے ہٹ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔

اراکین سینیٹ سے واپس لی گئی سکیورٹی دوبارہ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پسند نا پسند کے فیصلوں سے ملک کو نقصان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جن کو کوئی خطرہ نہیں انہوں نے سیکڑوں اہلکار اپنے ساتھ رکھے ہوئے ہیں اور ہم سے کس بنیاد پر سیکیورٹی واپس لی گئی ہے۔

مولابخش چانڈیو نے کہا کہ پشاور میں پیش آنے والا واقعہ بھی سیکیورٹی واپس لینے کا نتیجہ ہے۔

مسلم لیگ ن کے سینیٹر چوہدری تنویر نے کہا کہ چند افراد کے علاوہ سب سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، سیاسی یتیموں کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں کے ہاتھ باندھ کر ایک کھلاڑی کو کھیلنے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے، عمران خان اس ملک کا وزیراعظم نہیں بن سکتا اس لیے انہیں نگران وزیراعظم بنوا دیں۔

بعد ازاں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے وزارت داخلہ سے اس حوالے سے اور چاروں صوبوں سے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی سیکیورٹی سے متعلق رپورٹ بھی طلب کی۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ چاروں صوبائی سیکریٹریز سے پوچھا جائے کہ امیدواروں کی سیکیورٹی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔