'کیا مشرف کی عدم موجودگی میں ٹرائل ہوسکتا ہے؟'

اپ ڈیٹ 20 اگست 2018

ای میل

سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کی سماعت کرنے والے خصوصی عدالت کے جج جسٹس یاور علی کا کہنا ہے کہ ملزم کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہو چکے ہیں لیکن دیکھنا ہے کیا مشرف کے بیان کے بغیر کیس چل سکتا ہے؟

جسٹس یاور علی کی سربراہی میں خصوصی عدالت کے 2 رکنی بینچ نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔

سنگین غداری کیس کی سماعت کے دوران سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے وکیل اختر شاہ عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کی جان کو خطرہ ہے، ان پر 2 جان لیوا حملے ہوئے لیکن اگر صدر کو فراہم کی جانے والی سیکیورٹی دی جائے تو سابق صدر آجائیں گے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد کچہری اور کوئٹہ میں اکبر بگٹی کیس کی سماعت کے دوران حملہ ہوا۔

مزید پڑھیں: پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس سماعت کیلئے مقرر

علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ نے پراسیکیوٹر اکرم شیخ کے رویے پر برہمی کا اظہار کیا، جسٹس یاور علی نے ریمارکس دیئے کہ اکرم شیخ نے کیس چھوڑنا تھا تو درخواست کیوں نہیں دی، وہ سینئر وکیل ہیں انہیں اتنا تو علم ہونا چاہیے تھا۔

وفاقی حکومت نے کیس جلد مکمل کرنے کی درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ وزارت داخلہ کو لکھا گیا خط عدالت کو کیوں دیا گیا۔

جسٹس یاور علی نے ریمارکس دیئے کہ پرویز مشرف کا 342 کا بیان ریکارڈ کرنا ضروری ہے، جس پر استغاثہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سابق صدر بار بار طلبی کے باوجود پیش نہیں ہو رہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیا مشرف کی عدم موجودگی میں ٹرائل ہوسکتا ہے؟

اس موقع پر پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے وکیل سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے پیش نہیں ہو رہے، انہیں صدارتی سیکیورٹی دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی جبکہ پرویز مشرف عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چاہتے ہیں وزارت دفاع مشرف کو سیکیورٹی دے جبکہ مشرف کی صحت آنے کی اجازت دے تب ہی وہ آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پرویز مشرف سنگین غداری کیس: ایک مرتبہ پھر خصوصی عدالت قائم

جس پر جسٹس نذر اکبر نے ریمارکس دیئے کہ پرویز مشرف کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہو چکے ہیں، ان کی سیکیورٹی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن دیکھنا ہے کیا مشرف کے بیان کے بغیر کیس چل سکتا ہے؟

جسٹس یاور علی نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے وکالت نامے کا بھی جائزہ لینا ہے، سوال یہ ہے کیا مفرور کا وکیل عدالت میں پیش ہو سکتا ہے؟

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ سماعت پر دفعہ 342 کے بیان کے قانونی نقطے پر بحث ہوگی اور دیکھنا ہے کہ کیا بیان ریکارڈ کیے بغیر ٹرائل چل سکتا ہے؟

بعد ازاں عدالت نے پرویز مشرف غداری کیس کی سماعت 27 اگست تک کے لیے ملتوی کر دی اور آئندہ سماعت پر سیکریٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

مزید پڑھیں: پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں پراسیکیوشن سربراہ مستعفی

3 اگست 2018 کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس ایک مرتبہ پھر سماعت کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔

اس سے کچھ روز قبل سنگین غداری کیس میں پراسیکیوشن (استغاثہ) کے سربراہ محمد اکرم شیخ نے خود کو کیس سے الگ کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔

غداری کیس کا پس منظر

خیال رہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے وزارتِ داخلہ کے ذریعے سنگین غداری کیس کی درخواست دائر کی گئی تھی جسے خصوصی عدالت نے 13 دسمبر 2013 کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے سابق صدر کو 24 دسمبر کو طلب کیا تھا۔

اس کیس میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے نومبر 2013 میں ایڈووکیٹ اکرم شیخ کو پراسیکیوشن کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

ابتدائی طور پر جنرل (ر) پرویز مشرف کی قانونی ٹیم نے ایڈووکیٹ اکرم شیخ کی بطور چیف پراسیکیوٹر تعیناتی چیلنج کی تھی لیکن غداری کیس کے لیے مختص خصوصی عدالت کے ساتھ ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس چیلنج کو مسترد کردیا تھا۔

فروری 2014 میں جنرل (ر) پرویز مشرف عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے جس کے بعد عدالت نے 18 فروری 2014 کو ان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔

مارچ 2014 میں خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ اسی سال ستمبر میں پراسیکیوشن کی جانب سے ثبوت فراہم کیے گئے تھے۔

عدالت نے 8 مارچ 2016 کو جنرل (ر) پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں کرمنل پروسیجر کوڈ (سی آر پی سی) کی دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا تھا۔

بعد ازاں عدالت نے 19 جولائی 2016 کو جنرل (ر) پرویز مشرف کو مفرور قرار دے کر ان کے خلاف دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دے دیا تھا۔

تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم امتناع کے بعد خصوصی عدالت پرویز مشرف کے خلاف مزید سماعت نہیں کرسکی تھی جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے حکم کے بعد وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں خصوصی عدالت نے غداری کیس کی سماعتیں دوبارہ شروع کی تھیں اور حکم دیا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کیا جائے، جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی سابق حکومت نے مئی میں عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کردیا تھا۔

بعد ازاں 11 جون کو سپریم کورٹ نے جنرل (ر) پرویز مشرف کا قومی شناختی کارڈ (این آئی سی) اور پاسپورٹ بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔