مٹھی: غذائیت کی کمی اور وائرل انفیکشنز کے باعث صوبہ سندھ کے صحرائی ضلع تھرپارکر میں مزید 4 نومولود دم توڑ گئے۔

مرنے والے چاروں بچوں نے اپنی آخری سانسیں مٹھی کے سول ہسپتال میں لی تھیں جہاں انہیں علاج کی غرض سے لایا گیا تھا۔

اس ضمن میں محکمہ صحت کے اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ 4 مزید بچوں کی ہلاکت کے بعد رواں برس تھر میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد 401 تک پہنچ گئی۔

مزید پڑھیں: مٹھی میں غذائی قلت، 7 بچے جاں بحق

تھر میں کام کرنے والے مختلف غیر حکومتی اداروں (این جی اوز) نے سندھ حکومت کا تھر کو قحط زدہ علاقہ قرار دینے کے اقدام کو سراہا اور مطالبہ کیا کہ حکومتی ادارے امدادی کاموں میں تیزی لائیں۔

تھر ڈیپ رورل ڈویلپمنٹ پروگرام (ٹی آر ڈی پی) کے چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر اللہ نواز ساموں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے تھر کو قحط زدہ علاقہ قرار دینا اور یہاں موجود 3 لاکھ 23 ہزار 4 سو 35 خاندانوں کو ماہانہ گندم فراہم کرنے کا اقدام خوش آئند ہے۔

تاہم حکومت کو مویشیوں کے لیے چارہ اور صحرائی علاقے میں پینے کا پانی فراہم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تھر میں غذائیت کی کمی سے مزید 4 نومولود دم توڑ گئے

خیال رہے کہ تھر میں کھیتی باڑی اور روایتی فصلوں اور مویشیوں کے چارے کا مکمل طور پر انحصار بارشوں پر ہے، اور رواں برس اب تک بارشوں کا آغاز نہ ہونے سے تھر میں معاشی صورتحال انتہائی سنگین ہے جبکہ خشک سالی کی کیفیت ہے۔

اس ضمن میں متعدد مقامی لوگوں نے مویشیوں کے لیے بدین، عمر کوٹ اور میرپور خاص سے دیگر علاقوں میں نقل مکانی شروع کردی ہے۔