پشاور ہائیکورٹ نے مشال خان قتل کیس میں نامزد 2 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے پراسیکیوشن کو 15 روز میں ملزمان کے خلاف ٹرائل کورٹ میں چلان جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

ساتھ ہی عدالت نے ٹرائل کورٹ کو حکم دیا کہ چالان کے جمع ہونے کے بعد کیس کی سماعت 2 ماہ میں مکمل کی جائے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہائیکورٹ کے جج جسٹس ناصر محفوظ پر مشتمل سنگل بینچ نے مشال خان قتل کیس میں ملزمان اظہار اللہ عرف جوہنی اور صابر مایر کی درخواست ضمانت سے متعلق سماعت کی۔

مزید پڑھیں: مشال خان قتل کیس: اے ٹی سی کا فیصلہ پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج

خیال رہے کہ اپریل 2017 میں مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین رسالت کا الزام لگا کر شعبہ ابلاغ عامہ کے طالب علم مشال خان کو مشتعل ہجوم نے قتل کردیا تھا۔

بعد ازاں یہ کیس انسداد دہشت گردی عدالت میں چلا تھا اور رواں سال 7 فروری کو عدالت نے 57 ملزمان میں سے 31 کو مجرم قرار دیا تھا۔

عدالت کی جانب سے کیس کے مرکزی ملزم عمران خان کو سزائے موت، 5 ملزمان کو عمر قید اور 3 ملزمان کو 25 سال قید کی سزا دی گئی تھی۔

تاہم انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 26 ملزمان کو بری کردیا تھا اور کہا تھا کہ پراسیکیوشن ان کے خلاف ثبوت فراہم کرنے میں ہوگئی۔

اس واقعے کے بعد دونوں ملزمان، اظہار اللہ اور صابر روپوش ہوگئے تھے، جنہیں کچھ ماہ قبل پولیس نے تلاش کرکے حراست میں لیا۔

ٹرائل کورٹ کی جانب سے اظہار اللہ اور صابر سمیت 4 ملزمان کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کیے تھے اور انہیں مشال خان قتل کیس میں اشتہاری قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مشال خان قتل کیس میں مفرور مرکزی ملزم بھی گرفتار

بعد ازاں درخواست گزار ملزمان اظہار اللہ اور صابر جبکہ دیگر ملزمان عارف خان اور اسد کٹلنگ کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت نے ان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔

دوران سماعت مشال خان کے والد اقبال خان اور بیرسٹر عامر اللہ خان چامخانی، فضل خان اور محمد ایاز پر مشتمل وکلاء کا پینل پیش ہوا اور درخواست ضمانت کی مخالفت کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ملزمان کیس کے اہم ملزم ہیں اور ٹرائل کے دوران پیش کیے گئے ثبوت اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ قتل میں ملوث تھے۔