مشال خان قتل کیس میں مفرور مرکزی ملزم بھی گرفتار

اپ ڈیٹ 08 مارچ 2018

ای میل

مردان: عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے طالبِ علم مشال خان کے قتل کے مرکزی ملزم عارف کو پولیس نے مردان سے گرفتار کر لیا۔

خیال رہے کہ مشال خان کے قتل کے بعد ملزم عارف نے ایک اشتعال انگیز تقریر کی تھی جس میں اس نے مشال خان کے قتل کو جائز قرار دیا تھا۔

خیبرپختونخوا پولیس گزشتہ 11 ماہ سے ملزم عارف کی تلاش میں تھی تاہم آج انہیں اس حوالے سے اس کی گرفتاری کی صورت میں کامیابی ملی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مشال خان قتل کیس کا مرکزی ملزم عارف ترکی میں مقیم تھا جو چند روز پہلے ہی مردان واپس آیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم عارف اس وقت مردان کے سٹی پولیس اسٹیشن میں موجود ہے اور اس سے تفتیش کی جارہی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم عارف کی گرفتاری کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم عارف کو گرفتار کیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم عارف سے تفتیش کی جارہی ہے تاہم امکان ہے کہ اس کیس میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آسکتی ہیں۔

مشال خان قتل کیس — کب کیا ہوا؟

یاد رہے کہ 23 سالہ مشال خان کو 13 اپریل 2017 کو خیبر پختونخوا (کے پی) میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین رسالت کے الزام پر ہجوم نے تشدد کانشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ نے مشال خان کے والد کی جانب سے درخواست پر مقدمے کو مردان سے اے ٹی سی ایبٹ آباد منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

اے ٹی سی نے مقدمے کی سماعت کا آغاز ستمبر میں کیا تھا جبکہ یونیورسٹی کے طلبا اور اسٹاف کے اراکین سمیت گرفتار 57 مشتبہ افراد پر فرد جرم عائد کی گئی تھی اور گرفتار ملزمان کی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: مشال قتل کیس کے فیصلے کے خلاف جے یوآئی (ف) کا احتجاج

مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے 50 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے اور وکلا کی جانب سے ویڈیو ریکارڈ بھی پیش کیا گیا جس میں گرفتار ملزمان کو مشال خان پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔

یاد رہے کہ مشال خان قتل کیس کے حوالے سے تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ قتل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔

اے ٹی سی نے پانچ ماہ اور 10 دن کی سماعت کے بعد مقدمے کی کارروائی مکمل کی اور فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

خیال رہے کہ 7 فروری کو ایبٹ آباد کی اے ٹی سی نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک مجرم کو سزائے موت، 5 مجرموں کو 25 سال قید اور 25 مجرموں کو 3 سال قید جبکہ 26 ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔

مشال خان کے اہلخانہ نے اے ٹی سی کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور 13 فروری کو مشال خان کے بھائی ایمل خان نے اپنی وکلا ٹیم سے مشاورت کے بعد کہا تھا کہ وہ ایبٹ آباد کی اے ٹی سی کے فیصلے کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

مشال خان کے بھائی ایمل خان نے 14 فروری کو مشال خان قتل کیس میں اے ٹی سی ہری پور کے فیصلے کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

یاد رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے مشال خان قتل کیس میں ایبٹ آباد کی اے ٹی سی سے 26 افراد کی بریت کے فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

مشال خان کے والد نے بھی 24 فروری کو اپنے بیٹے کے قتل کیس میں اے ٹی سی کے فیصلے کے خلاف 6 اپیلیں پشاور ہائی کورٹ میں دائر کردیں تھیں.

دوسری جانب سزا پانے والے مجرمان نے پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ میں مشال قتل کیس سے متعلق ہری پور کی اے ٹی سی کے فیصلے کو چیلنج کردیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ کے بینچ نے 27 فروری کو 25 ملزمان کی سزاؤں کو معطل کرکے ملزمان کو رہا کرنے کے احکامات جاری کردیئے تھے۔