15 کروڑ میں بننے والی فلم کے اداکار کا معاوضہ ایک روپیہ!؟

اپ ڈیٹ 30 اگست 2018

ای میل

فلم کو آئندہ ماہ 21 ستمبر کو ریلیز کیا جائے گا—اسکرین شاٹ
فلم کو آئندہ ماہ 21 ستمبر کو ریلیز کیا جائے گا—اسکرین شاٹ

مقبول پاکستانی افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی زندگی پر بنائی جانے والی بولی وڈ کی آنے والی فلم ‘منٹو’ کا شائقین کو بے حد انتظار ہے اور فلم کے ٹریلر نے شائقین کی بے قراری کو مزید بڑھا دیا ہے۔

جہاں اس فلم کی کہانی بہت اچھی ہے وہیں اس فلم کی کاسٹ بھی زبردست ہے، جب کہ فلم کو نمائش کے لیے پیش کیے جانے سے قبل اسے کئی عالمی فلم فیسٹیول میں بھی پیش کیا جاچکا ہے۔

تاہم اب اس فلم کو آئندہ ماہ 21 ستمبر کو بھارت اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں ریلیز کیا جائے گا۔

لیکن اس فلم کے حوالے سے حیران کن خبر یہ ہے کہ اس فلم کے مرکزی اداکار نوازالدین صدیقی جو فلم میں سعادت حسن منٹو کا کردار ادا کرتے دکھائی دیں گے، انہوں نے معاوضے کے طور پر صرف ایک روپیہ ہی لیا۔

اس سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ جہاں نوازالدین صدیقی نے صرف ایک روپیہ معاوضہ لیا، وہیں اس فلم کی تمام کاسٹ نے مفت میں کام کیا۔

یہ بھی پڑھیں: نوازالدین صدیقی پر’منٹو‘ کے باغیانہ انداز کا اثر

ساتھ ہی یہ بھی حیرانی کی بات ہے کہ جس فلم کی تمام کاسٹ نے اس میں مفت میں کام کیا، اس فلم کا بجٹ 10 سے 15 کروڑ روپے کیسے ہوا؟

انڈین ایکسپریس نے اپنی خبر میں بھارتی نشریاتی ادارے کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فلم ساز اداکارہ نندیتا داس نے دعویٰ کیا کہ اس فلم میں کام کرنے کے لیے نوازالدین صدیقی نے صرف ایک روپیہ معاوضہ لیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس فلم میں رشی کپور، جاوید اختر، دیویا دتا، رنویر شورے، پراب کوہلی اور دیش پانڈے جیسے مرکزی اداکاروں نے فلم میں کام کے لیے ایک روپیہ تک معاوضہ نہیں لیا۔

فلم ساز نے انکشاف کیا کہ فلم نوازالدین صدیقی کے علاوہ تمام اداکاروں نے مفت میں کام کیا، علاوہ ازیں فلم میں مختصر کردار میں نظر آنے والے معروف اداکار پریش راول سمیت دیگر اداکاروں نے بھی کوئی معاوضہ نہیں لیا۔

فلم ساز کے مطابق بھی ان کی فلموں میں کئی اداکار مفت میں کام کرچکے ہیں۔

نندیتا داس کے مطابق یہ فلم ان کے لیے پیسوں سے زیادہ زندگی کی طرح اہمیت رکھتی ہے۔

لیکن دوسری جانب شوبز نشریاتی ادارے ‘جیکیس ڈاٹ ان’ کی رپورٹ کے مطابق منٹو کا بجٹ 10 سے 15 کروڑ روپے ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس فلم کا بجٹ 10 سے 15 کروڑ روپے ہو، اس فلم میں اداکاروں نے اگر مفت میں کام کیا تو اتنی ساری رقم خرچ کہاں کی گئی؟

مزید پڑھیں: جب ‘منٹو’ کیلئے ہندوستان کو پاکستان میں بدلا گیا

فلم کے ٹریلر سے اندازہ ہوتا ہے کہ فلم کے سیٹ پر اتنا خرچ نہیں ہوا اور نہ ہی فلم میں اتنی مار دھاڑ ایکشن شامل ہے، جس وجہ سے اس میں کئی گاڑیوں کو جلایا یا اڑایا گیا ہے۔

نندیتا داس سے قبل اس فلم کی آرٹ ڈائریکٹر نے انکشاف کیا تھا کہ ‘منٹو’ کی شوٹنگ پاکستان کے شہر لاہور سمیت دیگر مقامات پر ہونا تھی، تاہم اجازت نہ ملنے پر فلم کو بھارت میں ہی فلمایا گیا۔

جب فلم کو بھارت میں ہی فلمایا گیا اور اس میں اتنی تباہی بھی نہیں دکھائی گئی اور تمام اداکاروں نے مفت میں بھی کام کیا تو 10 سے 15 کروڑ روپے کہاں خرچ کیے گئے؟

تاہم نندیتا داس نے فلم کے بجٹ کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا، انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ نوازالدین صدیقی نے بھی دیگر اداکاروں کی طرح مفت میں کام کرنے کے بجائے صرف ایک روپیہ ہی کیوں معاوضہ لیا؟