سعودی عرب، عمان، بحرین سے غیر ملکی ترسیلات زر میں کمی

اپ ڈیٹ 01 ستمبر 2018

ای میل

اسلام آباد: وزارت خزانہ نے سینیٹ میں انکشاف کیا کہ سعودی عرب، بحرین اور عمان میں لیبر قوانین میں اصلاحات کے نتیجے میں غیر ملکی ترسیلات زر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

سینیٹ میں سینیٹر آغاز شاہ زیب درانی کی جانب اٹھائے گئے سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ مذکورہ ممالک کی لیبر پالیسیوں سے گزشتہ 3 برس میں غیر ملکی ترسیلات زر میں فرق پڑا، سعودی عرب سے 9.50 فیصد، بحرین سے 1.64 فیصد اور عمان سے 12.05 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی معاشی تبدیلیوں سے پاکستان کیسے فائدہ اُٹھا سکتا ہے؟

انہوں نے بتایا کہ ان ممالک میں مجموعی طورپر رہائش پذیر پاکستانیوں کے طرز زندگی بھی متاثر ہوئی ہے۔

اسد عمر نے بتایا کہ گلف ممالک سے غیر ملکی ترسیلات زر کے تناظر میں 2017 کے مقابلے میں 2018 نسبتاً بہتر رہا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، کویت، اور قطر سے غیر ملکی ترسیلات زر کی شرح سلسلہ وار 3.8 فیصد، 2.11 فیصد اور 0.96 فیصد رہی۔

وزیر خزانے نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں امریکا سے 12.03 فیصد اور برطانیہ سے 22.45 فیصد فارن ریمیٹنس میں بہتری آئی۔

مزید پڑھیں: سمندرپارپاکستانیوں کیلئے پہلی پالیسی پیش کردی گئی

سینیٹر عظیم خان سواتی کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ ٹیکس ادا کرنے والوں کی 10 لاکھ 60 ہزار رجسٹرڈ ہے۔

تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے واضح کیا کہ گزشتہ 4 برس میں ٹیکس ادائیگیوں میں بہتری آئی ہے، سال 15-2014 میں 8 کھرب 79 ارب 35 کروڑ روپے اور 18-2017 میں 13 کھرب 15 ارب 97 کروڑ روپے ٹیکس کی مد میں وصول ہوئے۔

سینیٹر چوہدری تنویر خان کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ 2008 سے 2018 کے درمیانی عرصے میں 69 ارب 17 کروڑ 40 لاکھ ڈالر بیرونی قرضہ حاصل کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اسی عرصے کے دوران 47 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ ادا کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ڈیمز کی تعمیر کیلئے جمع ہونے والے فنڈز کسی کو کھانے نہیں دیں گے‘

وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ یکم جولائی 2013 سے 31 مارچ 2018 کے دوران حکومت نے 42 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ حاصل کیا جبکہ 20 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئی۔

سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ چین، جاپان، ایشین ڈپولپمنٹ بینک اور ورلڈ بینک کے دوطرفہ تعلقات کی بنیاد پر سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی کے کام سرانجام دیئے گئے۔


یہ خبر یکم ستمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی