بھارت میں ہم جنس پرستی کے حق میں کئی سال سے تحریک جاری تھی—فائل فوٹو: ہندوستان ٹائمز
بھارت میں ہم جنس پرستی کے حق میں کئی سال سے تحریک جاری تھی—فائل فوٹو: ہندوستان ٹائمز

بھارت کی سپریم کورٹ نے 6 ستمبر کو تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے ہم جنس پرستی کو قانونی اجازت دیتے ہوئے اسے جرم سے نکالنے کا حکم دیا۔

بھارتی سپریم کوٹ نے انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کی دفعہ 377 پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ’بالغ ہم جنس پرست باہمی رضا مندی کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کر سکتے ہیں جو غیرآئینی یا قانونی کے زمرے سے باہر ہوگا‘۔

عدالتی فیصلے پر جہاں بھارت کے دیگر شعبہ جات کے افراد نے اس پر خوشی کا اظہار کیا، وہیں بولی وڈ اس معاملے میں سب سے آگے نظر آئی اور متعدد فلم سازوں، اداکاروں اور پروڈیوسرز نے اسے تاریخی لمحہ قرار دیا۔

فلم ساز کرن جوہر نے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے ٹوئیٹ کی کہ انہیں آج اس بات پر فخر محسوس ہو رہا ہے کہ ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے نکال دیا گیا۔

ساتھ ہی انہوں نے اس فیصلے کو ملک کے لیے آکسیجن بھی قرار دیا۔

بولی وڈ اداکارہ سونم کپور نے بھی فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا اور لکھا کہ ان کی آنکھوں میں ایل جی بی ٹی افراد کے لیے خوشی کے آنسوں ہیں۔

اداکارہ نے مزید لکھا کہ اب کسی کا کوئی لیول نہیں ہوگا، اب ہم سب ایک مثالی ملک میں رہیں گے۔

فرحان اختر نے مختصر ٹوئیٹ میں دفعہ 377 کو خدا حافظ کہا، ساتھ ہی انہوں نے سپریم کورٹ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

بولی وڈ مسٹر پرفیکشنسٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے لکھا کہ آج کا دن ان سب افراد کے لیے تاریخی اہمیت رکھتا ہے جو برابری پر یقین رکھتے ہیں۔

سوارا بھاسکر نے بھی فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے تاریخی دن قرار دیا۔

سوارا بھاسکر نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اب بھارتی عوام اکثریت کے فیصلے کو اہمیت دیتے ہوئے دوسروں لوگوں کا بھی خیال کریں گے۔

اداکارہ ادیتی راؤ حیدری نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا۔

پریٹی زنٹا نے بھی ہم جنس پرستی کے حق میں فیصلے کو خوش آئندہ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ‘اگر آپ کے پاس دل ہے تو آپ کسی سے بھی پیار کرنے کے لیے آزاد ہیں‘۔

علاوہ ازیں ارجن کپور، جان ابراہم، ایوشمن کھرانا سمیت دیگر اداکاروں اور شوبز انڈسٹری سے وابستہ افراد نے بھی ہم جنس پرستی کے حق میں دیے گئے فیصلے کو خوش آئندہ قرار دیا۔