پہلی بار خواتین حرمین شریفین کے انتظامی عہدوں پر تعینات

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2018

ای میل

سعودی عرب میں گزشتہ 2 سال سے خواتین کو اہم عہدوں پر تعینات کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

سعودی عرب جہاں رواں برس جون میں پہلی بار خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی گئی تھی۔ وہیں اب پہلی بار خواتین کو حرمین شریفین میں اہم انتظامی عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔

عرب نشریاتی ادارے ’العربیہ’ نے اپنی رپورٹ میں حرمین شریفین سے متعلق انتظامی امور سر انجام دینے والے ادارے کے سربراہ کی جانب سے جاری بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خواتین کو 2 مساجد کے انتظامی عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 41 خواتین کو 2 مساجد میں اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔

محکمہ مساجد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مساجد کے اہم عہدوں پر خواتین کی تعیناتی سعودی وژن 2030 کے تحت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑی چلانے کے بعد سعودی خواتین کو جہاز اڑانے کی بھی اجازت

بیان میں خواتین کی ذمہ داریوں سے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔

تاہم بیان میں کہا گیا ہے کہ مساجد کے اہم عہدوں پر خواتین کی تعیناتی سے اہم سماجی اہداف حاصل کیے جاسکیں گے۔

ساتھ ہی بیان میں مسلم خواتین کو معاشرے کا اہم حصہ قرار دے کر ان کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شرعی حدود کے دائرے میں رہتے ہوئے ملکی ترقی کے لیے خواتین کی جانب سے کام کرنا معیشت کے لیے کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔