سعودی عرب میں خواتین نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی

اپ ڈیٹ 24 جون 2018

ای میل

ریاض: سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملتے ہی سیکڑوں خواتین اپنی گاڑیاں لے کر سڑکوں پر نکل آئیں، عرب کے امیر ترین شہزادے ولید بن طلال کی صاحبزادی نے بھی سڑکوں پر گاڑی دوڑائی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں خواتین پر28 برس سے عائد ڈرائیونگ پابندی 23 اور 24 جون کی درمیانی شب ہٹا دی گئی تھی، جس کے ساتھ پورے ملک میں خواتین نے اس خوشی کے موقع کو ڈرائیونگ کرکے منایا۔

اس دوران ڈرائیونگ کرنے والی ایک ٹی وی پروگرام میزبان ثمرہ المغرین کا کہنا تھا کہ میں نے کافی عرصہ قبل اپنا چہرہ ٹی وی پر لانے کے لیے اپنا نقاب اتار لیا تھا، اس عمل کو میرے بھائیوں نے پسند نہیں کیا تاہم میرے والد نے میرے ان فیصلوں پر میری ہمیشہ مدد کی‘۔

انہوں نے کہا کہ ان کے والد نے ان کی بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے میں مدد کی جہاں انہوں نے ڈرائیونگ سیکھی اور بین الاقوامی ڈرائیونگ لائسنز بھی حاصل کیا، تاہم سعودی عرب میں حالات بھی مختلف تھے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب: قومی دن پرخواتین کو اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت

ٹی وی میزبان کا اپنی گاڑی چلاتے ہوئے کہنا تھا کہ مجھے ڈرائیونگ پسند نہیں، لیکن یہ ہمارا بنیادی حق ہے اور ہم گاڑی چلاسکتے ہیں۔

خاتون نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے اور گاڑی کو چلانے سے مجھے انتہائی مسرت کا احساس ہورہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے یقین تھا کہ یہ دن ضرور آئے گا اور یہ بہت جلدی آگیا، یہ بہت بڑی پیش رفت ہے اور اب میں اپنے آگے مزید رکاوٹیں نہیں دیکھ رہی‘۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اس موقع پر ایک سعودی خاتون کا گاڑی چلاتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ بہت خوش ہیں اور اسی خوشی کے اظہار کے لیے ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں، جو خواب تھا وہ پورا ہورہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودیہ میں خواتین کی ڈرائیونگ سے قبل گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ

یاد رہے کہ گزشتہ 3 دہائیوں سے سعودی عرب میں خواتین پر گاڑی چلانے پر پابندی عائد تھی تاہم اب سعودی حکومت کی جانب سے اس پابندی کو اٹھالیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں سعودی حکومت کی جانب سے یہ پابندی اٹھائی گئی تھی جبکہ سعودی سرکاری میڈیا کی رپورٹ میں شاہی فرمان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ’شاہی فرمان کے تحت خواتین کو بھی مردوں کی طرح ڈرائیونگ لائسنسز کے اجرا کیا جائے گا اور دیگر ٹریفک قوانین لاگو کیے جائیں گے‘۔

یاد رہے کہ رواں ماہ 5 جون کو سعودی عرب میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو ڈرائیونگ لائسنز کا اجرا کیا گیا تھا۔

سعودی حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اس اقدام کو سعودی عرب میں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔