لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت اور 3 وزراتوں کی جانب سے ایران میں سزائے موت کے منتظر پاکستانی شہریوں کے حوالے سے رپورٹ جمع کروانے میں مزید مہلت طلب کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

جسٹس شاہد وحید نے جسٹس پروجیکٹ آف پاکستان (جے پی پی) کی جانب سے ایران میں قید پاکستانیوں اور ایران میں منشیات کے حوالے سے قانون میں تبدیلی کے تحت ان کی سزائے موت پر اٹھائے گئے اقدامات جاننے کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی اٹانی جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور وفاقی حکومت، وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور وزارت برائے سمندر پار پاکستانی اور افرادی قوت کی جانب سے رپورٹ جمع کروانے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔

یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک پاکستانی قیدی قانونی مدد سے محروم

اس سلسلے میں عدالت کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ معاملہ سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اس سے ایران میں قید متعدد پاکستانی شہریوں کی زندگی وابستہ ہے۔

بعدازاں حکومت اور مذکورہ وزارتوں کو اپنے موقف پیش کرنے اور سزائے موت کے منتظر پاکستانیوں کی فہرست فراہم کرنے کے لیے آخری موقع دے دیا گیا۔

درخواست میں جے پی پی کی وکیل سارہ بلال نے موقف اختیار کیا کہ جنوری 2018 میں سپریم کورٹ آف ایران کے کیے گئے اعلان کے مطابق منشیات کے جرم میں سزائے موت کے منتظر اگر درخواست کریں گے تو ان کی سزا تبدیل کردی جائے گی۔

مزید پڑھیں: بیرون ملک 16 ہزار سے زائد پاکستانیوں کے نظر بند اور قید ہونے کا انکشاف

لہٰذا اگر سزائے موت پانے والے پاکستانی شہریوں کی جانب سے درخواست نہیں دائر کی گئی تو سابقہ قانون کے تحت انہیں فوری طور پر سزا دے دی جائے گی۔

وکیل نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ جے پی پی کی 4 ماہ قبل دائر کردہ درخواست پر وفاقی حکومت کا جواب تاحال جمع نہیں کروایا جاسکا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ نئے ایرانی منشیات قوانین کے تحت سزائے موت کے قیدیوں کو سزا پر نظرِ ثانی کا اختیار حاصل ہوگیا لیکن اس کے باوجود تہران میں قائم پاکستانی سفارت خانے نے پاکستانی قیدیوں کی بہتری کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔

یہ بھی پڑھیں: بیرونِ ملک قید پاکستانی اور حکومتی لاپرواہی

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت کو فوری طور پر ایران میں قید پاکستانیوں کی بھرپور نمائندگی کرنے کی ہدایت کی جائے تا کہ نئے قانون کے تحت ان کی سزائے موت پر عملدرآمد روکا جاسکے۔