بیرونِ ملک قید پاکستانی اور حکومتی لاپرواہی

04 اپريل 2015

ای میل

وزارتِ خارجہ اور سفارتخانوں کی بے حسی کی وجہ سے کئی ملکوں میں پاکستانی شہری جانوروں جیسی قید کاٹ رہے ہیں۔ — اے ایف پی/فائل
وزارتِ خارجہ اور سفارتخانوں کی بے حسی کی وجہ سے کئی ملکوں میں پاکستانی شہری جانوروں جیسی قید کاٹ رہے ہیں۔ — اے ایف پی/فائل

بیرونِ ملک قید پاکستانیوں کے دکھوں کی ایک لمبی داستان ہے جسے سننے کے لیے کسی کی پاس وقت نہیں۔ ان قیدیوں کے ورثا وزارتِ خارجہ کے دھکے کھاتے ہیں، بیرونِ ملک ہمارے سفارتخانوں میں فون کرتے ہیں، ای میلز بھیجتے ہیں، پریس کلبوں کے سامنے مظاہرے کرتے ہیں، دوسرے ممالک کے سربراہان کے دوروں کے موقع پر احتجاج کی اسکیمیں بناتے ہیں، جس پر وزارتِ خارجہ اور ان ملکوں میں ہمارے حکام بہت ناراض ہوتے ہیں کیونکہ اس طرح کے مظاہرے ان کے لیے خفت کا باعث بنتے ہیں، لیکن اس سب کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔

سعودی عرب میں آئے روز پاکستانیوں کے سر قلم کر دیے جاتے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ شفاف ٹرائل میسر ہوا یا نہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کتنے پاکستانی سعودی عرب کی جیلوں میں سڑ رہے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کچھ روز پہلے سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کے لواحقین اسلام آباد پریس کلب کے سامنے جمع ہوئے۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے غریب لواحقین کتنی امیدوں سے یہاں آئے تھے کہ شاید ان کی آواز مقتدر حلقے تک پہنچ جائے۔

اب ان بیچاروں کو کون سمجھائے کہ مقتدر حلقوں تک صرف وہی آوازیں پہنچتی ہیں جن کے ساتھ بڑے بڑے کمیشن اور کک بیکس کے امکانات ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان، جن کی جان بخشی بھی سعودی بادشاہ کی وجہ سے ہو پائی، انہیں کبھی یہ خیال کیوں آئے گا کہ وہ سعودی بادشاہوں سے پاکستانی قیدیوں کی جان بخشی کروانے کی کوشش کریں۔

پڑھیے: غلامی آج بھی جاری ہے

ویسے تو وہ خود بھی سعودی عرب میں پاکستانی قیدی کے طور پر مقیم رہے ہیں لیکن گردنیں کٹوانے والے اور پاکستانی فوج کو یمن کی آگ میں جھونکنے کو تیار پاکستانی قیدی میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ یمن میں حوثیوں کی بغاوت کو کچلنے کے لیے سعودی بادشاہوں نے مدد کی درخواست کی تو وزیر اعظم کو اتنا جوش آ گیا کہ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو لاحق کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیں گے۔ جناب والا! سعودی عرب کے خطروں کا جواب دینے کے بعد تھوڑی ہمت کر کے پاکستانیوں کے سر قلم ہونے سے روکنے اور قیدیوں کو واپس لانے کے بارے میں بھی کوئی بیان جاری کر دیجیے گا۔

چین اپنا یار ہے اور اس کے ساتھ ہماری دوستی ہمالیہ سے اونچی اور سمندروں سے گہری ہے۔ لیکن وہاں جو سینکڑوں قیدی جانوروں جیسی قید کاٹ رہے ہیں، ان کے معاملے میں ہماری پہاڑوں سے بلند اور سمندروں سے گہری دوستی جانے کہاں غائب ہو جاتی ہے۔

چین میں قید پاکستانی قیدیوں کی دکھ بھری داستان کا میں خود ایک گواہ ہوں۔ جو بدقسمت پاکستانی چین میں گرفتار ہو جاتے ہیں، پاکستان کی طرف سے وہ قسمت کے حوالے ہو جاتے ہیں۔ چین جانے اور وہ پاکستانی جانیں، پاکستانی ریاست، پاکستانی سفارت خانوں، ہمارے قونصل خانوں، اور ہماری وزارتِ خارجہ کا ان کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ نہ انہیں کوئی وکیل ملتا ہے، نہ کوئی شفاف ٹرائل۔ قسمت میں ہوگا تو بچ جائیں گے ورنہ چینی حکام انہیں لمبی سزائیں دے دیتے ہیں اور وہ پھر ساری عمر وہاں گلتے سڑتے رہتے ہیں۔

ہمارے سفارتخانے کے اپنے مسائل ہیں۔ بامقصد کام تو خیر کم ہی ہوتا ہے۔ ہر کوئی چین جانے والے وی آئی پیز کی خدمت میں مصروف رہتا ہے۔ ہمارے سفارتکار اور وہاں پر تعینات دیگر شعبوں کے افسران اتنے فیاض ہوتے ہیں کہ وہ سفارتخانے کے سارے وسائل اور سٹاف وی آئی پیز کی خدمت، انہیں خوش کرنے، اور ان کے ساتھ تعلقات بنانے کے لیے جھونک دیتے ہیں، لیکن اپنے اصل فرائض کے بارے میں توجہ کم ہی رہتی ہے۔

مزید پڑھیے: بیرونِ ملک موت

باقی سارے فرائض چھوڑیں، قیدیوں کے مسئلے پر سفارتخانہ کیا کر رہا ہے؟ اس طرح کے امور جو عام پاکستانیوں سے متعلق ہیں، سفارتخانے کی ترجیحات میں ہیں ہی نہیں۔ ایک تو سفارتخانوں کو وسائل کی کمی کا سامنا رہتا ہے اور دوسرا جو تھوڑے بہت وسائل ہوتے ہیں، وہ کرپشن، افسروں کے شاہانہ ذاتی استعمال، اور وی آئی پیز کی خدمت کی نذر ہو جاتے ہیں۔ کم و بیش یہی حال دیگر ملکوں میں ہمارے سفارتخانوں کا بھی ہے۔

چین میں میری تعیناتی کے دوران ہمارے ایک ساتھی افسر قیدیوں سے مل کر آئے اور انہیں تھوڑے بہت پیسے بھی فراہم کر کے آئے۔ انہوں نے مجھے خود بتایا کہ قیدیوں نے انہیں بہت برا بھلا کہا۔ خود ان کا خیال تھا کہ قیدیوں کا غصہ جائز تھا، ہماری ایمبیسی نے کبھی ان کو پوچھا تک نہیں۔

چین ایک بہت بڑا ملک ہے اور پاکستانی قیدی دور دراز جیلوں میں بند ہیں۔ سفارتخانے کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ دور دراز قیدیوں کی ضرورتوں کا خیال رکھ سکے۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں پائے جانے والے چینی دوستی کے بخار کے برعکس چین کی حکومت بھی پاکستانی سفارتخانے کو کوئی خاص گھاس نہیں ڈالتی۔

نہ ہی پاکستان کی چین کے ساتھ یکطرفہ دوستی کی خوش فہمی کوئی ممد و معاون ثابت ہوتی ہے، اور نہ ہی چین میں عام پاکستانیوں کے ساتھ کوئی ایسا برتاؤ ہوتا ہے کہ ہماری حکومت کے پاک چین دوستی کے بے جا پروپیگنڈا کی کوئی تصدیق ہو سکے۔ سو پاکستانی ریاست اور سفارتخانوں کی بے حسی کی سزا وہاں پر قید پاکستانی بھگت رہے ہیں۔

ساتھی افسر نے بتایا کہ ہمارے قیدیوں کے حالات اتنے خراب ہیں کہ چینی جیل حکام دس دس قیدیوں کو شیو کرنے کے لیے ایک ریزر دیتے ہیں۔ ان کے لواحقین اپنے پیاروں کی مدد کو نہیں پہنچ سکتے۔ انہیں چین کا ویزہ ملتا نہیں، اور ہمارے سفارتخانوں کے لیے ایسے افراد کی مدد بوجھ ہوتی ہے۔

جانیے: بیرونِ ملک قید رہ چکے پاکستانیوں کا معصومیت کا دعویٰ

میڈیا کا دباؤ البتہ انہیں کام کرنے پر ضرور مجبور کرتا ہے۔غالباً چین کے سابق صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر کسی قیدی کے پاکستانی لواحقین نے مظاہرے کیے جسے میڈیا نے تھوڑی بہت کوریج دی۔ بیجنگ میں ہمارے سفارتخانے کو اس پر تھوڑا سا ہوش آ گیا۔

اب سننے میں آ رہا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ کرنے جا رہا ہے۔ پاکستانی قیدیوں اور ان کے لواحقین کے لیے یقیناً یہ بہت بڑی خوش خبری ہوگی۔ چین میں پاکستانی قیدیوں کے مسئلے کا اس سے اچھا حل اور کوئی نہیں نکل سکتا۔ اسی طرح اگر ریاست دوسرے ممالک خصوصاً سعودی عرب میں پاکستانی قیدیوں کو وکیل، شفاف ٹرائل اور دوران قید انسانی سلوک کو یقینی نہیں بنا سکتی، یا ایسی باتیں اس کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں، تو کم از کم ان ملکوں سے اپنے قیدیوں کو پاکستانی جیلوں میں منتقل کرنے کے اقدامات ہی کر لے، تاکہ وہ بیچارے بد قسمت پاکستانی کم از کم اپنے ملک کی جیلوں میں آجائیں، جہاں ان کے لواحقین ان کا خیال بھی رکھ سکیں اور ان سے ملاقات بھی کر سکیں۔

کیا پاکستان کا شہری ہونے کے ناطے ان لوگوں کا اپنی ریاست پر اتنا بھی حق نہیں؟