مصر: چرچ پر حملوں کا الزام، 17 افراد کو سزائے موت

اپ ڈیٹ 11 اکتوبر 2018

ای میل

مصر کی عدالت نے 2016 اور 2017 میں چرچ پر ہونے والے حملوں کے الزام میں 17 افراد کو سزائے موت سنادی۔

الجزیرہ نے مصر کی سرکاری نیوز ایجنسی مینا کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ عدالت نے دیگر 19 ملزمان کو عمر قید کی سزا جبکہ 10 کو 10 سے 15 سال قید کی سزا سنائی۔

مصر میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وکیل خالد المصری کا کہنا تھا کہ فوجی پروسیکیوٹر نے داعش سے تعلق رکھنے والے گرفتار ملزمان پر مسیحی عبادت خانے اور سیکیورٹی فورسز پر حملے کا الزام لگایا تھا۔

مزید پڑھیں: مصر:اخوان المسلمون کے رہنماؤں سمیت 75 افراد کو سزائے موت

واضح رہے کہ عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

یاد رہے کہ دسمبر اور اپریل میں ہونے والے خود کش دھماکوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

الیزینڈرا اور ٹانٹا کے 2 مسیحی عبادت خانوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں 45 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ کچھ ماہ بعد قائرہ کے ایک چرچ میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں 25 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: مصر: اخوان المسلمون کے سربراہ کے دوبارہ ٹرائل کا حکم

مصر کی فورسز کئی سالوں سے جنوبی سینائی کے علاقے میں داعش سے تعلق رکھنے والے مسلح گروہوں سے جنگ میں مصروف ہیں۔

مصر کے سابق وزیراعظم کے بیٹے کی حراست اور رہائی

الجزیرہ کی ایک علیحدہ رپورٹ کے مطابق مصر کے سابق وزیراعظم محمد مرسی کے بیٹے کو حراست میں لینے کے بعد رہا کردیا گیا، وہ قائرہ کے مضافات میں رہائش پذیر تھے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق عبداللہ مرسی کو افواہیں پھیلانے پر گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا۔

اٹارنی جنرل نبیل صادق نے ایک تفصیلی بیان جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ عبداللہ مرسی کو مصر کی اعلیٰ سیکیورٹی پروسیکیویشن کی جانب سے تفتیش کے بعد 5 ہزار مصری پاؤنڈز کے عوض ضمانت دی گئی۔

عبداللہ مرسی کے بھائی احمد نے بتایا کہ ان کے بھائی کو جب گرفتار کیا گیا تھا تو ان کے ساتھ سیکیورٹی اہلکار ان کا موبائل اور آئی ڈی بھی لے گئے تھے لیکن ان کی رہائی پر یہ چیزیں واپس نہیں کی گئیں۔

مزید پڑھیں: مصر 2013 مظاہرے: 20 شہریوں کی سزائے موت برقرار

واضح رہے کہ عبداللہ، محمد مرسی کے پانچ بچوں میں سب سے چھوٹے ہیں اور انہیں 2015 میں بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

محمد مرسی کے ایک بیٹے اُسامہ کو ان کے والد کے خلاف فوجی بغاوت کے حوالے سے ہونے والے احتجاج کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ 2013 میں مصر کے اس وقت کے صدر محمد مرسی کو فوج کی جانب سے حکومت سے باہر کرنے اور گرفتار کرنے کے خلاف قاہرہ میں عوامی احتجاج شدت اختیار کرگیا تھا اور طویل دھرنا دیا گیا تھا۔

اس سے قبل 14 اگست 2013 کو مصری فوج کی جانب سے اس دھرنے کو بزور طاقت منتشر کردیا تھا جس میں 600 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ مصر نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم بھی قرار دیا تھا۔