اسلام آباد امریکا نے انٹرنیشل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جانے والی پاکستان کی مجبوری کے خاتمے کی خواہش کا اظہار کردیا اور کہا ہے کہ ملک میں معاشی استحکام کے لیے ساختی اصلاحات کو اپنایا جائے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار امریکی سفارتخانے میں اقتصادی معاون مائیکل اے سلیوان نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ آئی ایم ایف کا پروگرام پاکستان کے لیے انتہائی اہم اور ممکنہ طور پر بہترین آپشن ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی آئی ایم ایف سے سب سے بڑا قرض پیکیج حاصل کرنے کی کوشش

واضح رہے کہ پاکستان نے 1988 سے اب تک 12 مرتبہ آئی ایم ایف کے پروگرامز کے تحت قرضہ حاصل کرچکا ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے کے پروگرام کے حصول کی وجہ سے اس دوران اب تک پاکستان نے زیادہ وقت منتخب جمہوری حکومت کی پالیسی کے بجائے آئی ایم ایف کی پالیسی کے تحت گزارا ہے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا کہ امریکا آئی ایم ایف سے پاکستانی درخواست پر حمایت کر گا تو امریکی سفارتکار کا کہنا تھا کہ ’امریکا پاکستانی حکومت کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر ہے، وزیر خزانہ

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو مستحکم ترقی حاصل کرنے کے لیے معاشی استحکام کی بھی ضرورت ہے۔

مائیکل اے سلیوان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی خلا کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان دیرپا اقتصادی روابط موجود ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت کا حجم 7 ارب ڈالر تک ہے تاہم آئندہ کچھ برسوں کے دوران اس میں بھی بڑھنے کا امکان ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں