سپریم کورٹ نے رہائشی منصوبوں کے خلاف ہائی کورٹ کا حکم معطل کردیا

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2018

ای میل

چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینج نے درخواست پر فیصلہ سنایا—فائل فوٹو
چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینج نے درخواست پر فیصلہ سنایا—فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی 2 پر کشش ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے دیے گئے فیصلے کو معطل کردیا۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کی، جس میں اسلام آباد کے سیکٹر 14 اور 15 میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے 2 ترقیاتی منصوبوں کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کو ہاؤسنگ اسکیم شروع کرنے سے روکا جاسکتا ہے؟ جس پر عدالت کے علم میں یہ بات آئی کہ یہ پہلا کیس تھا، جس میں ایسا کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’فوج کو ہاؤسنگ اسکیم بنانی ہے تو اپنے لوگوں کیلئے بنائے‘

واضح رہے کہ 25 ستمبر 2018 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے اسی عدالت کے جسٹس اطہر من اللہ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا، جس میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ زیر تعمیر ترقیاتی منصوبے کا کنٹرول حاصل کر کے دونوں سیکٹروں میں ترقیاتی کام ہونے کے بعد پلاٹس کی منصفانہ تقسیم کرے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سیکٹر 14 اور 15 میں بنائی جانے والی اس اسکیم کی منظوری کابینہ کے سامنے پیش کرنے کے بجائے براہِ راست وزیراعظم سے حاصل کی گئی تھی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پارلیمنٹ کا کوئی قانون وزیر اعظم یا حکومت کے کسی رکن کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ حکومت سے منسلک اثاثے یا زمین، فروخت منتقل یا لیز پر دے سکے۔

مزید پڑھیں: نیب کا ڈی ایچ اے، بحریہ ٹاؤن اور سی ڈی اے کےخلاف تحقیقات کا فیصلہ

فیصلے کے مطابق اس طرح کا کوئی اقدام قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) کے ایکٹ 1999 کی دفعہ 9 کے تحت بدعنوانی سمجھا جائے گا۔

فیصلے میں بتایا گیا تھا کہ ان دونوں سیکٹرز میں اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں وفاقی وزارتوں، ان سے منسلک شعبہ جات کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران، اعلیٰ عدالتوں کے ججز، خود مختار اور نیم خود مختار اداروں کے ملازمین اور ریٹائرڈ افسران، صحافی،میڈیا ورکرز، وکلا، ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے ملازمین اور دیگر شامل ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ صحافی اور میڈیا ورکرز، جنہیں ریاستی اداروں کے غلط اقدامات سے پردہ اٹھانا چاہیے، وہ خود اس میں حصے دار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مزید رہائشی اسکیمیں، مگر کس قیمت پر؟

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ’ریاست کسی طرح بھی غیرشفاف طریقے سے ججز، صحافیوں، وکلا اور کسی کو بھی پلاٹ نہیں دے سکتی‘ اور جسٹس اطہر من اللہ نے زمین کے قبضے کے حوالے سے نوٹیفکیشن ایک جانب رکھتے ہوئے سی ڈی اے کو زمین پر قبضے کے خلاف کارروائی کا اختیار دیا تھا۔