’بلوچستان کے 600 سے زائد ترقیاتی منصوبے صرف کاغذوں پر موجود‘

اپ ڈیٹ 13 دسمبر 2018

ای میل

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال—فائل فوٹو
وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال—فائل فوٹو

کوئٹہ: بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے کہا ہے کہ میری ٹیم نے 600 سے زائد ترقیاتی اسکیموں کی نشاندہی کی ہے جو صرف کاغذوں میں موجود ہیں اور صوبے میں کہیں بھی ان کا وجود نہیں۔

قومی احتساب بیورو (نیب) بلوچستان کے تحت منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ترقیاتی اسکیمیں گزشتہ حکومت کی جانب سے تیار کی گئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت پہلے ہی بدعنوانی اور بدعنوان عناصر کے لیے صفر رواداری کا اعلان کرچکی ہے۔

مزید پڑھیں: سی پیک میں بلوچستان کے ’معمولی‘ حصے پر کابینہ اراکین حیرت زدہ

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان کے لاکھوں لوگوں کا مستقبل ہماری پالیسیوں سے جڑا ہوا ہے اور گزشتہ حکومت کی جانب سے کرپشن کے خاتمے میں اخلاص کی کمی نے عوام کے مسائل میں اضافہ کیا اور صوبے کی ترقی کو روک دیا۔

جام کمال خان کا کہنا تھا کہ ’صوبے میں کرپشن کے لیے مزید کوئی جگہ موجود نہیں، ہمارا مذہب ہمیں خود احتسابی اور بدعنوانی کے لیے 'زیرو رواداری' کی تعلیم دیتا ہے اور کرپشن کے خلاف ہمارے مذہب کی تعلیمات پر عمل نہ کرنے سے ہم بدعنوانی کے دلدل میں دھنستے رہیں گے، جو ملک اور صوبے میں تمام برائیوں کی بنیادی جڑ ہے‘۔

بلوچستان کی حکومت کو درپیش مالی مسائل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کا پینشنر بل 21 ارب روپے سے تجاوز کرگیا جبکہ صوبے کی کل آمدنی 15 ارب روپے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان نے شدید مالی خسارے پر وفاق سے مدد مانگ لی

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کو مالی مسائل سے باہر نکالنے کے لیے بلوچستان حکومت کو 3 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ملک میں موجود وسائل کو استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا، ساتھ ہی انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ مادنیات، تیل، گیس اور دیگر قدرتی وسائل ہونے کے باوجود ملک کے رہنماؤں کو دوسرے ممالک کا دورہ کرنے پر مجبور کیا اور یہ پورے ملک کے لیے بہت شرمناک صورت تھی۔

اس موقع پر نیب بلوچستان کے ڈائریکٹر جنرل محمد عابد جاوید نے صوبائی حکومت کو یقین دہانی کرائی کہ بیورو قانون سازوں کے ترقیاتی فنڈز روکنے کے لیے خطوط بھیجنے کا عمل نہیں دوہرائے گا، ساتھ ہی انہوں نے کرپٹ عناصر سے لوٹی ہوئی حکومتی دولت کی واپسی کے لیے کوششیں کرنے اور اس رقم کو قومی خزانے میں جمع کرانے پر زور دیا۔