آسٹریلیا میں سفارتخانوں کو مشتبہ پیکٹس بھیجنے والا ملزم گرفتار

10 جنوری 2019

ای میل

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

آسٹریلوی پولیس نے میلبرن میں مختلف ممالک کے سفارتخانوں کو مشتبہ پیکجز بھیجنے والا 48 سالہ مبینہ ملزم گرفتار کرلیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل پولیس کا کہنا تھا کہ مبینہ ملزم کو وکٹوریا ریاست میں اس کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مذکورہ شخص نے ملبرن، کینبیرہ اور سڈنی میں مختلف سفارتخانوں کو 38 پارسل بھیجے تھے۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا میں پاکستان سمیت 14 ممالک کے سفارتخانوں کو بیک وقت مشتبہ پیکٹس موصول

پولیس کی جانب سے اب تک 29 پیکجز بر آمد کرلیے گئے ہیں جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ’بقیہ 9 پارسلز سے عام عوام کو کوئی خطرہ نہیں‘۔

پولیس کا کہنا تھا کہ مشتبہ شخص کو ملبرن کی عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں اس پر ڈاک کے ذریعے خطرناک مواد بھیجنے کے الزامات لگائے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ان الزامات کے تحت ملزم کو 10 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

آسٹریلیا میں غیر ملکی سفارتخانوں میں اس وقت ایک ہلچل مچ گئی جب ایک ہی دن میں پاکستان سمیت 14 ممالک کے سفارتخانوں کو مشتبہ پیکٹ موصول ہوا جو کیمیکل پاؤڈر سے بھرا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا میں دوران پرواز پائلٹ کے 'سونے' کا انوکھا واقعہ

میلبورن میں واقع پاکستانی قونصل خانے کی ایک خاتون سفارتکار نے مشتبہ پیکٹ موصول کیا جو بظاہر ایک لفافے جیسا تھا لیکن جب اسے کھولا گیا تو اُس کے اندر کیمیکل پاؤڈر موجود تھا۔

پاکستانی سفارتخانے کو موصول ہونے والے پیکٹ میں موجود کیمکیل پاؤڈر کو 'اسبیٹوس' کہا جاتا ہے۔

مشتبہ پیکٹس پاکستان کے علاوہ امریکا، جرمنی، اٹلی، بھارت، اسپین، سوئٹزرلینڈ، مصر اور نیوزی لینڈ سمیت 14 ممالک کے سفارتخانوں کو موصول ہوئے۔

تاہم خیال رہے کہ مشبہ پیکٹس سے سفارتخانوں کے عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔