آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں سابق آرمی چیف کے بھائی 'اشتہاری' قرار

10 جنوری 2019

ای میل

شہباز شریف بیماری کے سبب عدالت میں پیش نہ ہو سکے جس پر عدالت نے انہیں اگلی سماعت پر پیشی کا حکم دیا— فائل فوٹو
شہباز شریف بیماری کے سبب عدالت میں پیش نہ ہو سکے جس پر عدالت نے انہیں اگلی سماعت پر پیشی کا حکم دیا— فائل فوٹو

احتساب عدالت نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل میں سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کامران کیانی، پیراگون سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے ڈائریکٹر ندیم ضیا اور خالد حسین کو اشتہاری قرار دے دیا۔

احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے مقدمے کی سماعت کی جہاں بیورو کریٹ فواد حسن فواد سمیت دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

مزید پڑھیں: آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کرلیا

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو سماعت میں پیش نہ کیا گیا اور جیل حکام کے مطابق شہباز شریف مکمل آرام کا مشورہ دیا گیا ہے اور انہیں میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کرنا ہے۔

کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے عدالت میں بیان جمع کرایا گیا جس میں کہا گیا کہ عدالت اور میڈیکل بورڈ کی تاریخ ایک ہی تھی جس کی وجہ سے شہباز شریف کو پیش نہیں کیا جا سکا اور استدعا کی کہ عدالت ریمانڈ میں توسیع کرے۔

احتساب عدالت نے شہباز شریف کے راہداری ریمانڈ میں 14روز کی توسیع کر دی اور انہیں 24 جنوری کو پیش کرنے کا حکم دیا۔

اس کے جواب میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ اگر میڈیکل بورڈ نے ان کے موکل کو آنے کی اجازت دی تو انہیں بھی شہباز شریف کو عدالت میں پیش کرنے میں کوئی اعتراض نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: شہباز شریف کے ریمانڈ میں توسیع

البتہ نیب پراسیکیوٹر وارث جنجوعہ نے اعتراض اٹھایا کہ مقدمے کو تاخیر کا شکار کیا جا رہا ہے، کیونکہ گزشتہ سماعت پر بھی ملزم کو پیش نہ کرنے کا یہی عذر پیش کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ شہباز شریف، صاف پانی کیس اور 14 ارب روپے کے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں متعدد بار اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے نیب کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔

اس موقع پر پولیس انسپکٹر نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سماعت پر وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر انہوں نے ملزمان کامران کیانی، خالد حسین اور ندیم ضیا کے گھر پر چھاپا مارا لیکن ان کے گھر پر تالا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام لوگ گھروں سے غائب ہیں اور کہیں فرار ہو چکے ہیں۔

اس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کا عمل شروع کرنے کی ہدایت دی جائے۔

مزید پڑھیں: آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری گرفتار

عدالت نے کامران کیانی، خالد حسین اور ندیم ضیا کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے اخبارات میں اشتہار شائع کرکے ملزمان کو 11 فروری تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر اخبارات میں اشتہار شائع ہونے کے باوجود ملزمان عدالت میں پیش نہیں ہوتے تو ان کی جائیداد ضبط کرکے مزید وارنٹ جاری کیے جائیں گے۔