آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری گرفتار

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2018

ای میل

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل میں سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی کے سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

نیب ذرائع کے مطابق فواد حسن فواد نیب لاہور میں پیش ہوئے اور ان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے، جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فواد حسن فواد کے خلاف آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے کے ٹھوس شوہد موجود تھے، جبکہ انہیں کئی مرتبہ نیب کے روبرو پیش ہونے کے موقع دیا گیا تھا لیکن انہوں نے ہمیشہ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے حاضری سے معذرت کر لیتے تھے۔

مزید پڑھیں: آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: نیب نے وزیراعظم کے سیکریٹری کو طلب کرلیا

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ سابق وزیرِاعظم کے پرنسپل سیکریٹری کا ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ 21 فروری کو نیب نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر ایل ڈی اے کے سابق سربراہ احد خان چیمہ کو پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا تھا۔

خیال رہے کہ پیراگون سٹی کی ذیلی کمپنی بسم اللہ انجینئرنگ کے مالک شاہد شفیق کو جعلی دستاویزات کی بنیاد پر آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا ٹھیکہ لینے کے الزام میں 24 فروری کو نیب نے گرفتار کیا تھا۔

مذکورہ گرفتاریوں کے بعد مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے حلقوں میں ہلچل مچ گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: شوروم سے احد چیمہ کی ’پوشیدہ لگژری کار اور 1 کروڑ 45 لاکھ روپے‘ برآمد

واضح رہے کہ بسم اللہ انجینئرنگ کمپنی کی نااہلی کی وجہ سے حکومت کو 100 کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔

بعدِ ازاں ایل ڈی اے کے سابق سربراہ احد خان چیمہ کی گرفتاری پر صوبائی بیورو کریسی سمیت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں بشمول قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور وزیرداخلہ احسن اقبال نے سوالات اٹھاتے ہوئے اسے ایک سازش قرار دیا۔

دونوں گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پہلے انہیں جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا گیا، بعدِ ازاں 5 مارچ کو ان کے ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع اور پھر 20 مارچ کو مزید 14 روز کے لیے توسیع کردی گئی، تاہم ان کے ریمانڈ میں توسیع کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔

دونوں ملزمان کے خلاف آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں کیس لاہور کی احتساب عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔