’پاکستان اور امریکا کے درمیان بدگمانی ختم کرنے کی ضرورت ہے‘

اپ ڈیٹ 11 جنوری 2019

ای میل

علی جہانگیر صدیقی مئی سے دسمبر 2018 تک واشنگٹن میں تعینات رہے — فائل فوٹو
علی جہانگیر صدیقی مئی سے دسمبر 2018 تک واشنگٹن میں تعینات رہے — فائل فوٹو

واشنگٹن میں تعینات سابق پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی کا کہنا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان شدید بدگمانی موجود ہے جسے سفارت کاروں کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈان سے خصوصی گفتگو میں سفیر علی جہانگیر صدیقی نےدونوں ممالک کے تعلقات میں پیچیدگیوں ، بطور سفیر چیلنجز اور افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کے کردار سے متعلق بات چیت کی۔

علی جہانگیر صدیقی مئی سے دسمبر 2018 تک واشنگٹن میں تعینات رہے۔

امریکا کی جانب پاکستان سے ڈو مور کے مطالبے سے متعلق علی جہانگیر صدیقی نے کہا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ امریکا اسے ایک غیر منصفانہ مطالبہ سمجھتا تھا یا نہیں لیکن پاکستان نے امریکا سے تعلقات کے لیے بہت زیادہ کیا اور اس کی قیمت بھی چکائی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہے کہ امریکا کی جنوبی ایشیا کے لیے حکمت عملی کامیاب نہیں تھی۔

مزید پڑھیں : علی جہانگیر صدیقی نے امریکا میں پاکستانی سفیر کا عہدہ چھوڑ دیا

سابق پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین ایک طویل عرصے سے وسیع پیمانے پر مذاکرات نہیں ہوئے جس کی وجہ سے دونوں اطراف کی جانب سے وضاحت کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر باراک اوباما کے دورِ اقتدار میں بھی اسٹریٹیجک مذاکرات اس وقت ہوئے جب دو طرفہ تعلقات بہت تیزی سے خراب ہورہے تھے اس لیے یہ مسئلہ کافی سنجیدہ ہے۔

علی جہانگیرصدیقی نے کہا کہ دونوں اطراف بدگمانی چھائی ہوئی ہے جسے ختم کرنے کی کوشش کرنی ہوگی، اس کے لیے دونوں ممالک کے رہنماؤں کو سفارت کاروں کے ذریعے تاریخی معاملات پر تبادلہ خیال کرکے سب واضح کرنا ہوگا۔

پاکستان اور امریکا ایک دوسرے کو سمجھنے میں ناکام ہیں اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ایسا ہے، دونوں ممالک کی بیوروکرسی بہترین ہے لیکن ہمارے مقابلے میں امریکی سیاسی نظام بیوروکریسی پر اثرانداز ہوتا ہے، اس لیے ان کے نظام میں سیاسی رخ زیادہ مضبوط ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، ہماری خارجہ پالیسی کی نظر سے دیکھیں تو میں نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ ہم مختصر مدتی مسائل اور بحران کے حل میں مصروف ہیں جبکہ امریکا سے متعلق طویل المدتی پالیسی پر محدود منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کرپشن کیسز: امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر دوبارہ نیب طلب

امریکا کے مطالبے پر افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کے کردار ادا کرنے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا ہے کہ تمام فریقین کو مذاکرات کے لیے راضی کرنے کے لیے ہم نے ہرممکن کوشش کی لیکن ان مذاکرات کے نتائج کا تعین پاکستانی نہیں بلکہ امریکی اور افغان شہریوں کی جانب سے کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اس کے لیے بھرپور کوشش کررہے ہیں کیونکہ صرف افغانستان میں امن ایک عظیم مقصد نہیں بلکہ پاکستان بھی اس تنازع کی وجہ سے دہشت گردی کا بدترین شکار ہوا ہے اور اسی لیے ہم ایک پُرامن افغانستان چاہتے ہیں۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستانی اکثر کہتے ہیں ہم امداد نہیں تجارت چاہتے ہیں تو وہ سنجیدہ ہیں یا نہیں اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں بعض اوقات سوچتا ہوں کہ ہمارے پالیسی سازوں سے یہاں کچھ بھول ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجارت نہیں امداد اب زیادہ عرصے تک قابل اطلاق نہیں، امداد کا اپنا کردار ہے تجارت کا اپنا لیکن ٹیکنالوجی میں بڑھتی ہوئی جدت اور دنیا میں دیگر تبدیلی کی وجہ سے ہمیں کچھ نیا دیکھنے کی ضرورت ہے جو ممکنہ طور پر تجارت کے بجائے ٹیکنالوجی ہوسکتی ہے تاہم میں یہ بھی دہراؤں گا کہ تجارت اور امداد دونوں ہی مناسب ہیں۔

پاکستان کی اسٹریٹیجک لوکیشن سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ہماری پاس اسٹریٹیجک لوکیشن ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نوجوان آبادی ہے جو حقیقت پر یک طرفہ پوزیشن لینے کے مترادف ہے، یک طرفہ پوزیشن اپنے طور پر درست ہوتے ہوئے بھی نقصانات کو نظر انداز کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک نوجوان آبادی کا مطلب انہیں ملازمت دینے کے لیے جدوجہد کرنا ہے جبکہ اسٹریٹیجک لوکیشن کا مطلب جغرافیائی سیاست کی پیچیدگی ہے۔

مزید پڑھیں : کرپشن کیسز: امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر دوبارہ نیب طلب

سابق سفیر نے کہا کہ اس لیے میں نے ہماری اسٹریٹیجک لوکیشن کو ایک حقیقت کے طور پر نمٹا، بعض اوقات اس میں فوائد تھے اور دیگر مرتبہ پیچیدگیاں تھیں لیکن پیچیدگی بھی معاملات حل کرنے کا ایک موقع ہوتی ہے۔

بطور سفیر مکمل مدت میں اچھی کارکردگی سے متعلق سوال پر سابق سفیر نے کہا کہ ظاہر سی بات ہے سفارتی نتائج مہارت اور وقت پر مبنی ہیں، اگر میں نے 7 ماہ کے بجائے 3 سال کام کیا ہوتا تو ہم اس سے 10 گُنا زیادہ نتائج حاصل کرسکتے تھے۔

علی جہانگیر صدیقی کا کہنا تھا کہ یہ اتنا سیدھا اور سادہ نہیں ہے، تعلقات بنانے میں وقت لگتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ واشنگٹن بھی اسلام آباد کی طرح ایک چھوٹا شہر ہے اور یہاں بھی قیادت میں چند سو افراد موجود ہیں جو وائٹ ہاؤس، کانگریس، سرکاری دفاتر، سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ، کاروبار اور سائنسی اسٹیبلشمنٹ میں بکھرے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 دہائیوں میں ہم کافی نقصان کرچکے ہیں اور اسے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ہمیں وقت اور محنت کی شدید ضرورت ہے۔