سعودی عرب اور یو اے ای کی مشترکہ ڈیجیٹل کرنسی متعارف

اپ ڈیٹ 04 فروری 2019

ای میل

یہ کرنسی دونوں ممالک میں کام کرسکے گی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ کرنسی دونوں ممالک میں کام کرسکے گی — شٹر اسٹاک فوٹو

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اولین ایشیائی ممالک بن گئے ہیں جو مشترکہ طور پر اپنی سرکاری ورچوئل کرنسی متعارف کرا رہے ہیں۔

ویسے تو حکومتی زیرسرپرستی کرپٹو یا ڈیجیٹل کرنسی کا خیال نیا نہیں لیکن وینزویلا 2018 میں پیٹرو نامی ورچوئل کرنسی متعارف کرا چکا ہے تاکہ ملک کے مالی حالات کو بہتر کر سکے۔

مگر اب سعودی عرب اور یو اے ای نے مل کر اپنی طرز کی منفرد ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرائی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق یہ کرنسی دونوں ممالک میں کام کرسکے گی۔

یہ دونوں ممالک قریبی اتحادی اور دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہیں اور انہوں نے اپنی ڈیجیٹل کرنسی کی آزمائش بھی شروع کردی ہے۔

اس مقصد کے لیے پائلٹ پروگرام میں دیکھا جائے گا کہ بلاک چین ٹیکنالوجی سرحد پار ٹرانزیکشن کا عمل کس حد تک کم لاگت پر ممکن بناسکے گی۔

اس پروگرام سے دونوں ممالک کو یہ جاننے کا بھی موقع ملے گا کہ سرکاری کرپٹو کرنسی کس حد تک مالیاتی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں : اسلامی سرمایہ کاری میں کرپٹو کرنسی کی حیثیت؟

سعودی عرب اور یو اے ای نے اس منصوبے کا اعلان سات نکاتی تعاون منصوبے کے تحت کیا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔

فی الحال یہ ڈیجیٹل کرنسی سرحد پار ادائیگیوں تک محدود ہے، جس تک مرکزی اور مقامی بینکوں کو رسائی حاصل ہوگی۔

یہ ابھی واضح نہیں کہ عام افراد بھی اس کرنسی کی خریداری کرسکیں گے یا نہیں۔

دونوں ممالک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ' سرحد پار ڈیجیٹل کرنسی آزمائشی مرحلے میں بینکوں تک محدود ہوگی تاکہ یہ سمجھنے میں مدد مل سکے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی سرحد پار ادائیگیوں میں کس حد تک اثرانداز اور سہولیات فراہم کرتی ہے۔ یہ کرنسی مرکزی اور مقامی بینکوں کے ڈیٹابیس پر انحصار کرے گی جو دونوں ممالک ایک دوسرے کو فراہم کریں گے، اس کا مقصد صارفین کے مفادات کو تحفظ، ٹیکنالوجی کا معیار طے کرنا اور سائبر سیکیورٹی کے خطرات کا تعین کرنا ہے، اس منصوبے کا ایک اور مقصد مالیاتی پالیسیوں پر ایک مرکزی کرنسی کے اثرات کا تعین کرنا بھی ہے'۔

یہ بھی پڑھیں : کیا بِٹ کوائن اور کرپٹو کرنسیاں پیسے کا مستقبل ہیں؟

مستقبل میں اس طرح کی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کے منصوبے کئی ممالک نے بنارکھے ہیں۔

روس نے بھی کچھ عرصے قبل انکشاف کیا تھا کہ اس کا مرکزی بینک برازیل، بھارت، چین اور ای ای یو ممالک سے ایک کرپٹو کرنسی کے امکانات پر بات کررہا ہے جو کہ ان ممالک میں کام کرسکے گی۔