کیا بِٹ کوائن اور کرپٹو کرنسیاں پیسے کا مستقبل ہیں؟

16 فروری 2018

ای میل

سترہویں صدی کے ٹیولپ کے جنون اور اندازوں پر مبنی دیگر کئی معاشی بلبلوں کی طرح بِٹ کوائن بھی پچھلے سال دسمبر کے اوائل میں 19,850 ڈالر کی ریکارڈ قیمت کو پہنچنے کے بعد اب تنزلی کا شکار ہے۔

مگر بِٹ کوائن آخر ہے کیا؟ اور یہ زبان زدِ عام کیوں ہے؟

بِٹ کوائن کیا ہے؟

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ زیادہ تر لوگ ڈیجیٹل کرنسیوں کے تصور سے بھونچکے رہ جاتے ہیں کیوں کہ اس کا مطلب سمجھنے کے لیے آپ کو ٹیکنالوجی کے ایک بالکل نئے رخ کو اپنے ذہن میں اتارنا پڑتا ہے۔ مگر بنیادی طور پر کرپٹو کرنسیاں مکمل طور پر روایتی پیسے سے مختلف نہیں ہیں۔

کرپٹو کرنسی ایک ایسی ورچوئل کرنسی ہوتی ہے جو انکرپٹڈ اور خفیہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ محفوظ ہوتی ہے اور اسے ٹریک کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کی کوئی ظاہری صورت نہیں ہوتی اور یہ صرف کمپیوٹروں کی میموری میں حروف اور اعداد کی صورت میں موجود ہوتی ہے۔ یہ کرنسیاں ایسی آن لائن ایکسچینجز سے حاصل کی جا سکتی ہیں جو صرف کرپٹو کرنسی میں ڈیل کرتی ہیں۔

بِٹ کوائن پہلی کرپٹو کرنسی تھی جو 2009 میں ستوشی ناکوموتو نامی ایک گمنام شخص/گروہ نے شروع کی تھی۔ یہ شخص/گروہ 2010 میں آن لائن کمیونٹی سے غائب ہوگیا تھا۔

جو چیز بِٹ کوائن کو منفرد و ممتاز بناتی ہے، وہ یہ کہ روایتی کرنسیوں کے برعکس کوئی بھی حکومت یا مرکزی بینک کرپٹو کرنسیاں جاری نہیں کرتا، اور نہ ہی یہ قانونی طور پر تسلیم شدہ ہے، مثلاً آپ بِٹ کوائن کو اپنا ٹیکس ادا کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔ اس کے بجائے اس کی قیمت اور خرید و فروخت کا حجم اس کی تجارت کرنے والی کمیونٹی پر منحصر ہے۔ حقیقی کرنسی کی طرح کرپٹو کرنسیاں بھی اعتماد کی بناء پر قائم ہیں۔ جہاں کاغذی کرنسیاں اپنے صارفین کو یہ یقین دلاتی ہیں کہ ملکی مرکزی بینک ان کی قیمت کا ضامن ہے، وہاں کرپٹو کرنسیاں ایک مختلف قسم کے بھروسے پر چلتی ہیں، وہ یہ کہ ایک کمپیوٹر الگورتھم فراڈ کو روک سکے گا۔

بِٹ کوائن بغیر شناخت کے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے کیوں کہ کریڈٹ کارڈ یا بینک اکاؤنٹ کے برعکس آپ کے بِٹ کوائن اکاؤنٹ کے ساتھ کوئی پتہ یا شناختی معلومات منسلک نہیں ہوتی۔ اور یہی تو کرپٹو کرنسی میں لوگوں کی دلچسپی کا سبب ہے۔ مگر بِٹ کوائن اتنا بھی خفیہ نہیں ہے جتنا کہ اس کے مداح یا حکام کہتے ہیں۔ ممکنہ طور پر اسے آپ کے آئی پی ایڈریس، سروس پرووائیڈر، یا خرچ کرنے کے پیٹرنز کی وجہ سے ٹریک کیا جا سکتا ہے۔

فی الوقت تقریباً 1 کروڑ 60 لاکھ 78 ہزار بِٹ کوائن گردش میں ہیں اور ان کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر محدود اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک طاقتور کمپیوٹر اور تھوڑی سی معلومات رکھنے والا شخص انہیں حاصل کر سکتا ہے۔ بِٹ کوائنز کی طاقتور کمپیوٹروں کے ذریعے 'مائننگ' کی جاتی ہے جو پیچیدہ ریاضیاتی پزل کا حل ڈھونڈ کر بِٹ کوائن حاصل کرتے ہیں۔ بدلے میں بلاک چین کہلانے والے ایک اجتماعی تصدیقی نظام کا کردار ادا کرنے والے صارفین کے نیٹ ورک کی جانب سے اس کی تصدیق کی جاتی ہے۔ ہر بِٹ کوائن ٹرانزیکشن کو آپ ایک بینک اکاؤنٹ اینٹری کے طور پر تصور کر سکتے ہیں، مگر اس میں ٹرانزیکشن کی تصدیق دو فریقوں کے بجائے پوری کمیونٹی کرتی ہے تاکہ فراڈ کا کوئی بھی امکان باقی نہ رہے۔

بدقسمتی سے بِٹ کوائن کی مائننگ کے لیے بہت زیادہ بجلی کی ضرورت پڑتی ہے۔ پاور کمپیئر کی ایک رپورٹ کے مطابق "[بِٹ کوائنز کی مائننگ] میں بجلی کی کھپت دنیا کے 159 ممالک کی بجلی کی طلب سے زیادہ ہے۔" ڈیجیکونامسٹ کے مطابق "بِٹ کوائن کی ٹرانزیکشنز کو جاری رکھنے کے لیے کمپیوٹرز کو سالانہ 29.05 ٹیراواٹ (10 لاکھ میگاواٹ) بجلی درکار ہوتی ہے۔" اس کے علاوہ بٹ کوائن انرجی کنزمپشن انڈیکس کے مطابق ایک بِٹ کوائن ٹرانزیکشن میں لگنے والی توانائی سے امریکا کے 10 گھروں کو پورے ایک دن کے لیے بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔

چین میں ایسے سرور فارمز بھی ہیں جو بِٹ کوائن کی مائننگ کے لیے پورے کے پورے شہروں سے زیادہ بجلی کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کرنسیوں کی اس طرح مائننگ کے لیے بجلی کی طلب طویل مدت میں پوری نہیں کی جا سکتی۔

کیا بِٹ کوائن اور کرپٹو کرنسیاں پیسے کا مستقبل ہیں؟

بِٹ کوائن کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ریگولیٹرز اور حکومتیں اسے تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ حقیقی دنیا کی بہت کم دکانیں اسے قبول کرتی ہیں اور ٹرانزیکشنز سر کا درد ہیں۔ اس کا پراسرار آغاز اس کی شہرت کے لیے نقصاندہ ہے۔ مگر ڈیجیٹل دنیا کے کئی ماہرین کے مطابق بِٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی مقبولیت کی ایک وجہ رکاوٹوں اور ضوابط کی عدم موجودگی ہے۔ مگر دنیا کی زیادہ تر حکومتوں نے کرپٹو کرنسیوں پر کسی نہ کسی صورت میں پابندی عائد کر رکھی ہے۔ جاپان کو اس حوالے سے استثناء حاصل ہے کیوں کہ وہاں بِٹ کوائن قانونی ہے۔

امریکی حکام کے نزدیک بِٹ کوائن صرف ضوابط سے بچنے کا ایک طریقہ ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو کے سابق سربراہ بین برنانکے کے مطابق "بِٹ کوائن روایتی کرنسیوں (فیئٹ) کی جگہ لینے، ریگولیشن اور حکومتی مداخلت سے بچنے کی ایک کوشش ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ کامیاب ہو گی۔" یہ بھی بات یاد رکھنے کی ہے کہ اب تک کوئی بھی مرکزی بینک یا بین الاقوامی مالیاتی ادارہ بِٹ کوائن یا کرپٹو کرنسی کی پیشکش نہیں کرتا۔

مگر لگتا ہے کہ امریکی حکومت خود اپنے ہی مشورے پر عمل نہیں کر رہی۔ حال ہی میں امریکی فیڈرل ریزرو نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی کرپٹو کرنسی لانچ کریں گے۔

چین نے شروع میں بِٹ کوائن کو فروغ دیا مگر پھر ایکسچینجز کے ذریعے کوائن حاصل کرنے (انییشئل کوائن آفرنگ یا آئی سی او) پر پابندی عائد کر دی جس سے کرپٹو کرنسی ایکسچینجز میں ہلچل مچ گئی۔ آئی سی او اسٹاک مارکیٹ کے آئی پی او کا ڈیجیٹل ہم پلہ ہیں جس میں خریداروں کو شیئرز کے بجائے عنقریب جاری ہونے والی کرپٹو کرنسی کے ورچوئل کوائن ایک پہلے سے طے شدہ قیمت پر ملتے ہیں۔ مگر کرپٹو کرنسی کے خلاف اپنی ہی سخت وارننگز، کے ان کے ذریعے بین الاقوامی مالی استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے، کے برعکس پیپلز بینک آف چائنا نے دسمبر کے اختتام پر اعلان کیا کہ اس نے بھی اپنی خودمختار کرپٹو کرنسی ڈیزائن کرنے کے لیے ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

ظاہر ہے کہ ڈیجیٹل کرنسیوں کی لچک اب بھی لوگوں کے لیے پرکشش ہے۔

حکومتِ پاکستان نے بھی کرپٹو کرنسیوں کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا باضابطہ مؤقف یہ ہے کہ وہ مستقبل میں بِٹ کوائنز یا کرپٹو کرنسیوں کو قانونی قرار دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ مگر اس کی وجہ سے پاکستان میں زیرِ زمین ایکسچینجز کے پھلنے پھولنے پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ آپ اب بھی فیس بک، واٹس ایپ، ویب سائٹس اور دیگر ذرائع سے بِٹ کوائنز کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔

بِٹ کوائن کی ایک اور مشکل اس کی قیمت میں تیز ترین تبدیلی ہے۔ شروع میں یہ خود مختار کرنسی کے عالمی متبادل کے طور پر پیش کیا گیا تھا مگر 2017 میں عوامی دلچسپی اور اندازوں کی وجہ سے اس کی قیمت میں 1900 فیصد اضافہ ہوا۔ سال 2017 کے شروع میں اس کی قیمت 1000 ڈالر تھی۔ پھر دسمبر کے ماہ میں چند دن کے اندر اندر اس کی قیمت 12,000 ڈالر تک گری، اور پھر 15,000 ڈالر تک پہنچ گئی۔ آخری منگل کے روز تک اس کی قیمت 13,699 ڈالر تھی۔ کوئی بھی ماہرِ معاشیات یہ بتا سکتا ہے کہ اس طرح کی کرنسی ایک قابلِ عمل مالیاتی متبادل نہیں ہوسکتا۔ پیسہ تب کام کا ہوتا ہے جب وہ اپنی قدر برقرار رکھ سکے، اور صارفین اس پر بھروسہ کر سکیں کہ وہ کسی چیز کے لیے کتنی ادائیگی کر رہے ہیں۔

مگر بھلے ہی ہم بِٹ کوائن اور دیگر متعلقہ کرنسیوں کے لیے مکمل قبولیت سے ابھی بہت دور ہیں، مگر پھر بھی یہ اب کہیں نہیں جائیں گی۔ دسمبر 2017 میں کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن (زیرِ گردش کرنسی ضرب قدر) 600 ارب ڈالر تھی اور کچھ لوگوں کے نزدیک یہ ایک کھرب ڈالر (ایک ہزار ارب) تک پہنچے گی۔ ہوسکتا ہے کہ ایسے بِٹ کوائن مستقبل میں ڈاؤن لوڈز کا کرنسی ہم پلہ بن جائیں۔ ٹورینٹ کی طرح بِٹ کوائن بھی ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں کے زیرِ استعمال رہیں جو ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھتے ہیں مگر ریگولیٹرز اور حکومتوں سے بچنا چاہتے ہیں۔

مگر چوں کہ حکومتیں اور کارپوریشنز اپنی اپنی ڈیجیٹل کرنسیاں لانچ کرنا چاہتی ہیں، اسے دیکھتے ہوئے ہو سکتا ہے کہ برقی پیسہ ایک بالکل نیا روپ لے۔ آگے چل کر ممکنہ طور پر کرنسیوں کی ایک وسیع رینج وجود پا سکتی ہے جس میں حکومتوں کی حقیقی کرنسی اور ایکسچینجز پر خرید و فروخت کی جا رہی کرنسیز دوسری طرف ہو سکتی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ایک کرنسی صرف مخصوص پراڈکٹس، خدمات، یا پھر ہر چیز کی خرید و فروخت کے لیے قابلِ استعمال ہو۔

بِٹ کوائن کی مقبولیت کا دیگر کرپٹو کرنسیوں مثلاً ایتھیریئم اور لائٹ کوائن پر بھی مثبت اثر ہوا، اور یوں بے تحاشہ نئی کرپٹو کرنسیاں وجود پا چکی ہیں۔ واضح طور پر ڈیجیٹل پیسے کی بہت طلب ہے ۔ ہر کسی کرنسی نے خود کو دوسرے سے ممتاز بنانے کے لیے نئے فیچر متعارف کروائے ہیں۔ زیڈ کیش، ڈیش اور مونیرو نے شناخت کے تحفظ کے لیے ایک اور سطح کا اضافہ کر کے خود کو دوسری تمام کرپٹو کرنسیوں سے زیادہ خفیہ بنا لیا ہے۔

پھر کچھ ایسی کرپٹو کرنسیاں ہیں جو مخصوص استعمال کے لیے زیادہ مناسب ہیں۔ مثلاً رپل کو بینکنگ ٹرانزیکشنز کو مدِنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ فائل کوائن اور سیاکوائن کو پیسے کے تبادلے کے لیے بنایا گیا ہے، جبکہ فاسٹ فوڈ چین 'برگر کنگ' بھی اب اپنی کرپٹو کرنسی بنانے کی طرف توجہ دے رہی ہے۔ کچھ ایسے ریپ سنگرز بھی ہیں جنہوں نے اپنی کرپٹو کرنسی لانچ کر رکھی ہے۔

بِٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی بنیاد میں موجود بلاک چین ٹیکنالوجی قبولیت اور قانونی قرار دیے جانے کے وعدہ لیے ہوئے ہے۔ یہ صرف ٹرانزیکشنز نہیں، بلکہ اس ہمارے انفارمیشن اسٹور کرنے، منظر کرنے اور تصدیق کرنے کے تمام سسٹمز میں انقلاب لانے کے لیے تیار ہے۔ تصور کریں کہ آپ کو معلومات کی تصدیق کے لیے کسی مرکزی سسٹم پر منحصر نہیں رہنا پڑتا، اور بینکنگ، ریوینیو، زمین کے ریکارڈ، تعلیمی اسناد وغیرہ کی تصدیق کے لیے ایک پھیلا ہوا عالمی نظام موجود ہے جس میں ہر جگہ ایک ہی جیسے اور ناقابلِ تبدیلی رجسٹر موجود ہیں۔

ایک بالکل نیا دور ہمارے سامنے ہے اور یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ آنے والے دور میں کرپٹو کرنسیاں اور بلاک چین ٹیکنالوجی کس طرح فروغ پاتی ہے۔ بِٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں میں عوامی دلچسپی اب ختم نہیں ہوگی۔

انگلش میں پڑھیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار کے سنڈے میگزین میں 7 جنوری 2017 کو شائع ہوا۔