جرمنی نے فیس بک کو صارفین کا ڈیٹا اکٹھا کرنے سے روک دیا

اپ ڈیٹ 08 فروری 2019

ای میل

فیس بک کو دیگر ذرائع سے بھی ڈیٹا جمع کرنے سے روک دیا گیا — فوٹو: اے پی
فیس بک کو دیگر ذرائع سے بھی ڈیٹا جمع کرنے سے روک دیا گیا — فوٹو: اے پی

جرمن حکام نے اپنے ملک میں سوشل میڈیا کے حوالے سے اہم فیصلہ سناتے ہوئے فیس بُک پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں اور اسے مختلف ذرائع سے ڈیٹا جمع کر کے اسے اکٹھا کرنے سے روک دیا ہے۔

جرمنی کے فیڈرل کمپی ٹیشن آفس کی جانب سے دیے گئے فیصلے میں کہا گیا کہ وہ فیس بک کے لیے نئی حدود کا تعین کرے گا کہ وہ اپنے ذیلی اداروں انسٹا گرام اور واٹس ایپ سمیت دیگر ذرائع سے کس طرح ڈیٹا اکٹھا کرے گا۔

مزید پڑھیں: اب فیس بک پر غلطی سے بھیجا گیا پیغام 'ان سینڈ' کرنا ممکن

حکام نے کہا کہ مستقبل میں صارفین کا کسی بھی قسم کا ڈیٹا لینے سے قبل فیس بک کو مذکورہ صارف سے اجازت لینا ہو گی۔

ایف سی او کے سربراہ ایندریاس منڈٹ نے جمعرات کو دیے گئے فیصلے میں اپنے بیان میں کہا کہ اگر صارفین نے ڈیٹا دینے پر رضامندی ظاہر نہ کی تو فیس بک کو انہیں اپنی سروسز سے محروم نہیں کر سکے گا اور دیگر ذرائع سے ڈیٹا جمع کرنے اور انہیں یکجا کرنے سے باز رہنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جرمنی میں سوشل میڈیا پر فیس بک غالب ہے جہاں روزانہ دو کروڑ 30لاکھ صارفین فیس بک کا استعمال کرتے ہیں جو مجموعی مارکیٹ کا 95فیصد حصہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو کوئی اور مناسب سروس دستیاب نہیں اور اسی وجہ سے فیس بک لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے لوگوں کے پاس فیس بک کی بات ماننے یا پھر سروس سے محروم کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اور ایسی صورتحال میں ان کی ہاں کو رضاکارانہ حامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

فیس بک نے کہا ہے کہ وہ جرمنی میں ان پابندیوں کے خلاف ایف سی او میں اہیل کرے گا۔

فیس بک نے کہا کہ صرف ایک کمپنی کے لیے الگ قوانین بنانا کر لاگو کرنا جرمنی کے قوانین کے خلاف ہے اور جرمنی میں ہمیں یوٹیوب، ٹوئٹر اور اسنیپ شیٹ سے سخت مسابقت کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا موٹرولا کا پہلا فولڈ ایبل فون ایسا ہوگا؟

جرمنی میں گزشتہ سال کیمبرج اینالائٹیکا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد سے فیس بک کو شدید تنقید کا سامنا ہے جہاں اس اسکینڈل کے نتیجے میں صارفین کی مرضی کے بغیر ایک کروڑ سے زائد فیس بک پروفائلز کا ڈیٹا لے لیا گیا تھا۔

جرمن حکام نے واضح کیا کہ اگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ نے ان پابندیوں کا اطلاق نہ کیا تو ان پر فیس بک کی سالانہ آمدنی کا 10 فیصد جرمانہ عائد کیا جائے گا(گزشتہ سال 37فیصد بڑھ کر 55.8ارب روپے ہو گیا تھا)۔