سابق افغان صدر صبغت اللہ مجددی انتقال کرگئے

12 فروری 2019

ای میل

صبغت اللہ مجددی کابل کے ہسپتال میں زیر علاج تھے—فوٹو: اے پی
صبغت اللہ مجددی کابل کے ہسپتال میں زیر علاج تھے—فوٹو: اے پی

افغانستان کے افغان مجاہد اور سابق صدر صبغت اللہ مجددی 93 برس کی عمر میں مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صبغت اللہ مجددی کابل کے ہسپتال میں زیر علاج تھے اور انہوں نے افغانستان سے روس کے انخلا میں عسکری جدوجہد کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: روس، تاجکستان کا افغانستان میں فضائی حملے کا الزام مسترد

سابق صدر حامد کرزئی سمیت متعدد افغان حکام نے صبغت اللہ مجددی کے گھر تعزیتی دورے کیے اور اہلخانہ سے ملاقات کی۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ افغانستان کے وزیراعظم عبداللہ عبداللہ نے بھی مرحوم کے قبائلی رہنماؤں سے تعزیت کا اظہار کیا۔

انہوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ’صبغت اللہ مجددی نے قومی نوعیت کے مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کیا اور افغانستان کی تاریخ میں ان کی کاوشوں کے ثمرات ہمیشہ رہیں گے‘۔

صدراتی امیدوار اور سابق قومی سلامتی کے مشیر محمد حنیف نے کہا کہ ’سابق افغان صدر کی موت افغانستان کی سیاست اور عوامی زندگی میں وسیع خلا ثابت ہو گی‘۔

مزیدپڑھیں: امریکا افغانستان میں ناکام ہوچکا، روسی سفیر

واضح رہے کہ صبغت اللہ مجددی کی موت افغانستان سے سویت یونین کے انخلا کی 30 ویں سالگیرہ سے محض تین دن پہلے ہوئی۔

خیال رہے کہ ریڈ آرمی امو دریا کو 15 فروری 1989 پار کرکے سویت ازبکستان میں داخل ہوئی۔

فوجیوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں افغان نیشنل لیبریشن فرنٹ کے سربراہی میں جاری کمیونسٹ دور 1992 میں ختم ہو گیا تھا جس کے بعد صبغت اللہ مجددی کو عبوری صدر مقرر کیا گیا۔

انہوں نے تقریباً 2 ماہ بطور صدر فرائض انجام دیئے تاہم افغان رہنماؤں مابین تنازعات کے نتیجے میں ملک خانہ جنگی کی نذر ہو گیا۔

افغانستان میں 2001 میں طالبان کی شکست کے بعد صبغت اللہ مجددی نے افغان پالیسی کی تشکیل سازی میں نمایاں کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں فضائی حملوں میں 21 شہری نشانہ بنے، اقوام متحدہ

انہوں نے 2003 میں بطور چیئرمین گرینڈ اسمبلی کے فرائض انجام دیئے جس نے افغانستان کا نیا آئین منظور کیا تھا۔

خیال رہے کہ صبغت اللہ مجددی نے 2013 میں تقریباً 2 ہزار 500 قبائلی علمائے کے اجتماع کی 4 روز تک سربراہی کی اور اسی اجتماع کی منظوری کے تحت امریکا نے افغانستان میں اپنی فوجیں رکھی اور افغان اہلکاروں کی عسکری تربیت کی۔