کاغذ سے جلد کٹنا زیادہ تکلیف دہ کیوں ہوتا ہے؟

13 فروری 2019

ای میل

حیرت کا عنصر درحقیقت کاغذ سے کٹ لگنے کو زیادہ تکلیف دہ بناتا ہے— شٹر اسٹاک فوٹو
حیرت کا عنصر درحقیقت کاغذ سے کٹ لگنے کو زیادہ تکلیف دہ بناتا ہے— شٹر اسٹاک فوٹو

ہم سب کو اس تکلیف دہ احساس کا علم ہے جب کسی کتاب کو پڑھنے یا کوئی لفافہ کھولنے کے دوران اچانک تیز چھبتا ہوا درد انگلی میں ہوتا ہے۔

پھر آپ کو خون کی بوند نظر آتی ہے اور معلوم ہے کہ کاغذ نے جلد کا وہ حصہ کاٹ دیا ہے۔

کاغذ انتہائی ہلکا اور بے ضرر لگتا ہے مگر اس کے باعث جلد کٹنا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے اور کئی دن تک برقرار رہ سکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق حیرت کا عنصر درحقیقت کاغذ سے کٹ لگنے کو زیادہ تکلیف دہ بناتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کاغذ سے کٹنے پر شدید تکلیف کی بڑی وجہ چوٹ کا مقام ہے اور وہ ہے آپ کی انگلی۔

انہوں نے بتایا کہ جسم کے اعصاب کا اختتام عام طور پر انگلیوں میں ہوتا ہے اور یہ وہ مقام ہوتا ہے جو حرکت اور سنسناہٹ کا تعین کرتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کاغذ سے کٹ لگتنا اسی وجہ سے تکلیف دہ ہوتا ہے کیونکہ یہ دماغ کے لیے غیرمتوقع ہوتا ہے اور وہ اس حملے کے لیے تیار نہیں ہوتا، جبکہ ہاتھ دن بھر کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس زخم کا منہ بھی کھلا رہے گا۔

ان کے بقول یہ بہت مشکل ہے کہ آپ کاموں کے لیے ہاتھ استعمال نہ کریں، تو اس زخم پر مسلسل دباﺅ رہتا ہے جس سے اس کے جلد بھرنے کا امکان کم ہوتا ہے۔

دوسری جانب کاغذ کے کنارے ہموار نہیں ہوتے مگر ان کی دھار تیز ہوتی ہے جو بہت تیزی سے جلد کو کاٹ دیتے ہیں جس کا احساس بھی نہیں ہوپاتا، جبکہ ہموار دھار نہ ہونے پر بھی تکلیف زیادہ ہوتی ہے۔