بھارت کلبھوشن یادیو کی رہائی کے مطالبے سے دستبردار

اپ ڈیٹ 21 فروری 2019

ای میل

عالمی عدالت انصاف بھارتی وکیل نے پاکستان کی جانب سے استعمال کیے گئے الفاظ پر اعتراضات اٹھائے — فائل فوٹو/اے ایف پی
عالمی عدالت انصاف بھارتی وکیل نے پاکستان کی جانب سے استعمال کیے گئے الفاظ پر اعتراضات اٹھائے — فائل فوٹو/اے ایف پی

ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف میں زیر سماعت کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت کلبھوشن یادیو کی رہائی کے اپنے ہی مطالبے سے دستبردار ہوگیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ گھنٹے پر مشتمل بھارت کے جواب میں سینیئر وکیل ہارش سیلو نے موقف اپنایا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت پر دھوکے سے حملے کیے گئے اور انہوں نے ’شیم لیس‘ (بے شرم) کا لفظ 5 بار استعمال کیا، ’ڈس گریس فل‘ (ذلت آمیز) کا لفظ 4 مرتبہ استعمال کیا اور ’نان سینس‘ (احمقانہ) کا لفظ 5 مرتبہ استعمال کیا جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔

انہوں نے پاکستانی قونصل کو تجویز دی کہ ٹیبل پر ہتھوڑا ماریں اور کہا کہ ’ایک معروف قول ہے کہ اگر حقائق آپ کے خلاف ہوں تو قانون پر ہتھوڑا مارو، اگر قانون آپ کے خلاف ہوں تو حقائق پر ہتھوڑا مارو اور اگر قانون اور حقائق دونوں آپ کے خلاف ہوں تو ٹیبل پر ہتھوڑا مارو‘۔

مزید پڑھیں: کلبھوشن کیس: عالمی عدالت انصاف میں بھارتی وکلا کے دلائل مکمل

بھارتی وکیل نے دوسری مرتبہ پاکستانی سوالات کو ’نامناسب اور غیر متعلقہ‘ قرار دیا اور اسے بھارت کا ’اندرونی معاملہ‘ قرار دیا۔

پاکستان کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دیے جانے سے قبل بھارتی شہریت ثابت کرنے کے مطالبے پر پہلی مرتبہ بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اہم نقطہ نہیں ہوسکتا، پاکستان کی جانب سے را کے افسران کے پاکستان میں داخلے کے حوالے سے 25 مارچ 2016 کو پالیسی میں تبدیلی جاری کی گئی تھی اور را کا افسر ہونے کے لیے آپ کو بھارتی شہری ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے یادیو کی قونصلر رسائی اس لیے طلب کی کیونکہ وہ بھارتی شہری ہے، اگر اس کی قومیت ظاہر کرنے کی اتنی ہی ضرورت تھی تو بھارت کی جانب سے 13 مرتبہ پاکستان کو بھیجی گئی درخواستوں پر پاکستان نے ایک مرتبہ بھی جواب دیتے ہوئے شواہد طلب کیوں نہیں کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے کبھی اس کی شہریت مسترد نہیں کی اپنے شہریوں سے لاتعلقی کا اظہار بھارت نہیں بلکہ پاکستان کرتا ہے۔

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ ویانا کنونشن آف قونصلر ریلیشنز (وی سی سی آر) کے تحت پاکستان قونصلر رسائی دینے کا پابند ہے۔

انہوں نے پاکستانی وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’اگر پاکستان اتنا ہی قریبی، عزیز اور پیارا ہے کہ کلبھوشن یادیو کے اعترافات کو مانتا ہے تو اسے اس کی قومیت پر کیوں شک ہے‘۔

انہوں نے ’پاسپورٹ کے مسئلے‘ کو فضول اور قانونی بنیادوں کے برعکس قرار دیا اور کہا کہ اگر پاکستان کو یادیو کی بھارتی شہریت پر شک ہے تو اس نے عالمی برادری میں اس کو ابھار کر کیوں پیش کیا‘۔

پاسپورٹ

ہارش سیلو کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اگر کچھ بھی ہے تو وہ پاسپورٹ ہے جس کا بھارت نے بہت پہلے ہی جواب دیا تھا کہ کلبھوشن یادیو غیر تصدیق شدہ بھارتی پاسپورٹ جس پر اس کا مسلمانوں والا نام درج تھا، پر سفر کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’پاسپورٹ رکھنے سے آپ دہشت گرد نہیں ہوجاتے ہو، پاکستان کی جانب سے کلبھوشن کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں دیے گئے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو فوجی عدالت میں سنائی گئی سزا کا تفصیلی فیصلہ بھی بھارت کی جانب سے متعدد درخواستوں کے باوجود آج تک نہیں دیا گیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے کلبھوشن کیس میں قانونی معاونت نہ ملنے کی شکایتوں پر بھارتی وکیل نے پاکستان ہی پر باہمی قانونی مشاورت (ایم ایل اے) نہ ہونے کا الزام لگایا۔

واضح رہے کہ ایم ایل اے 2 ممالک میں قانونی معاونت کے لیے معاہدہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وی سی سی آر کے آرٹیکل 36 میں ایم ایل اے درخواستوں پر عمل در آمد کا نہیں کہتا اور یہ پاکستان کی پروپیگنڈا پھیلانے والی فوج کا دوسرا ہتھیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کلبھوشن کیس: پاکستان نے عالمی عدالت میں تحریری جواب جمع کرا دیا

خیال رہے کہ پاکستان بھارتی صحافیوں کی رپورٹس اور آرٹیکلز کا حوالہ دیا تھا جس میں کلبھوشن یادیو کی خفیہ کارروائیوں اور بھارت خفیہ ادارے سے تعلقات کی تحقیقات کی گئی تھیں۔

اپنے موقف میں بھارتی وکیل نے ان ہی صحافیوں اور دیگر آرٹیکلز کا حوالہ دیا جس میں بتایا گیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کو ساراوان سے نہیں چنا گیا تھا جیسا پاکستان نے دعویٰ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ صحافی ہیں جن کے حوالے سے پاکستان دعویٰ کرتا ہے کہ یہ بہترین صحافت کرتے ہیں تو ان ہی کی خبروں پر پاکستان اعتماد کیوں نہیں کرتا جو پاکستان آرمی اور مقدموں میں اپنائے گئے موقف کے خلاف ہیں۔

بھارت نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے کیس پر نظر ثانی کرنے اور اسے فوجی عدالت میں واپس بھیجنا ایک غلط اقدام ہوگا بلکہ عدالت جوڈیشل نظر ثانی کے لیے اگر کہے تو یہ بہتر ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں فوجی عدالتیں قانونی عمل کی مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ کرنے کے لیے اس عدالت کو ماہرین کی مدد کی ضرورت نہیں ہوگی‘۔

انہوں نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے جس میں انہوں نے 70 پھانسی کی سزاؤں کو روکا تھا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان نے خود اس فیصلے کو چیلنج کردیا تھا۔

انہوں نے عدالت میں اس فیصلے کو بیان نہ کرنے پر خاور قریشی کی سرزنش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی کمیشن برائے عدالت اور یورپی پارلیمنٹ نے کئی مرتبہ پاکستان کی فوجی عدالتوں کے کام کرنے کے طریقہ کار پر تنقید کی ہے اور پاکستان نے اس کے دفاع میں فوجی ماہرین کی رپورٹس پر ہی انحصار کیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کی عدالتوں کی جانب سے جوڈیشل نظر ثانی بہت کم کی جاتی ہے، انہوں نے کئی مرتبہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کی ہے‘۔

واضح رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس کی سماعت ہیگ میں قائم 15 ججوں پر مشتمل عالمی عدالت انصاف میں 18 سے 21 فروری تک کی جائے گی، اس موقع پر اٹارنی جنرل انور منصور پاکستانی وفد کی قیادت جبکہ ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ ایشیا ڈاکٹر محمد فیصل دفتر خارجہ کی نمائندگی کررہے ہیں۔

گزشتہ روز عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس کے دلائل دیتے ہوئے بھارت نے پاکستان پر کلبھوشن یادیو کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔

بھارتی وکیل ہرش سیلو نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کلبھوشن کے خلاف افراتفری اور جاسوسی کے دعوے حقائق کے منافی ہیں۔

ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں کیس کی سماعت کے آغاز میں سیلو نے کہا تھا کہ کلبھوشن یادیو کا کورٹ مارشل اس مرحلے کے معیار پر پورا نہیں اترتا، اس لیے اسے غیر قانونی قرار دیا جائے۔

انہوں نے ججز سے اصرار کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دیا جائے اور انسانی حقوق کے تحت ان کی رہائی کا حکم دیا جائے۔

جسٹس جیلانی بینچ کا حصہ برقرار

آئی سی جے کے اعلیٰ جج عبدالقوی احمد یوسف نے اعلان کیا کہ پاکستان کی جانب سے منتخب کیے گئے ایڈ ہاک جج اس بینچ کا حصہ بنے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ تصدق حسین جیلانی اس زبانی کارروائی کی تمام ٹرانسکرپٹس حاصل کریں گے اور وہ اسے انٹرنیٹ کے ذریعے دیکھ بھی سکیں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے کلبھوشن کے پاسپورٹ سےمتعلق برطانوی رپورٹ عالمی عدالت میں پیش کردی

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کی جانب سے چنے گئے ایڈ ہاک جج رواں کارروائی میں شرکت کر رہے ہیں اور وہ آئندہ بھی شرکت کرتے رہیں گے‘۔

یاد رہے کہ گزشتہ سماعت میں عالمی عدالت انصاف میں سماعت کے آغاز میں پاکستانی وفد کے سربراہ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے پاکستان کے ایڈہاک جج تصدق حسین جیلانی کی غیرحاضری پر تشویش کا اظہار کیا اور ایڈہاک جج تبدیل کرنے کی درخواست کی۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ تصدق حسین جیلانی بیمار ہیں، کسی بھی ریاست کو ایڈہاک جج تعینات کرنے کا اختیار ہے۔

عالمی عدالت انصاف نے جسٹس تصدق حسین جیلانی سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور صدر عالمی عدالت انصاف یوسف القبی نے پاکستان کے ایڈہاک جج کی غیرحاضری میں سماعت جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔

کلبھوشن یادیو

یاد رہے کہ ’را‘ کے لیے کام کرنے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو غیرقانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ کہ انہیں ’را‘ کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

کلبھوشن نے یہ بھی کہا تھا کہ 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد 'را' کے لیے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا۔

ویڈیو میں کلبھوشن نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا تھا۔

بعدازاں اپریل 2017 کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنانے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کی توثیق 10 اپریل کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی تھی۔

بھارت نے 9 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کی پھانسی کے خلاف اپیل دائر کی تھی، اور درخواست کی تھی کہ آئی سی جے پاکستان کو بھارتی جاسوس کو پھانسی دینے سے روکے۔

عالمی عدالت انصاف میں کی گئی درخواست میں بھارت نے پاکستان پر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیاتھا کہ ویانا کنونشن کے مطابق جاسوسی کے الزام میں گرفتار شخص کو رسائی سے روکا نہیں جاسکتا۔

بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو ایک بے قصور تاجر ہے جسے ایران سے اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر زبردستی را ایجنٹ ہونے کا اعتراف کروایا گیا لیکن بھارت اغوا کیے جانے کے کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا تھا۔

خیال رہے کہ 13 دسمبر 2017 کو کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھارت کی شکایت پر پاکستان کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں جوابی یاد داشت جمع کرائی گئی تھی۔

جس کے بعد گزشتہ برس 18 مئی کو عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کلبھوشن کی پھانسی روکنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد دفتر خارجہ نے آگاہ کیا تھا کہ آئی سی جے کے حکم پر حکومتِ پاکستان نے متعلقہ اداروں کو اس پر عمل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

مزید پڑھیں: کلبھوشن کیس: پاکستان نے عالمی عدالت میں تحریری جواب جمع کرا دیا

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے کیے گئے دعووں پر اب تک پاکستان اور بھارت کی جانب سے 2،2 جوابات داخل کروائے جاچکے ہیں ۔

تاہم بھارت یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی بحریہ سے کب اور کس طرح ریٹائر ہوا، کیونکہ پکڑے جانے کے وقت کلبھوشن کی عمر 47 برس تھی۔

علاوہ ازیں بھارت کو اس بات کی وضاحت دینے کی ضرورت ہے کہ کلبھوشن یادیو کے پاس جعلی شناخت کے ساتھ اصلی پاسپورٹ کیسے آیا، جس کو اس نے 17 مرتبہ بھارت آنے جانے کے لیے استعمال بھی کیا اور اس میں اس کا نام حسین مبارک پٹیل درج تھا۔

یاد رہے کہ دسمبر 2017 میں پاکستان نے کلبھوشن کے لیے ان کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کے انتطامات کیے تھے۔

یہ ملاقات پاکستان کے دفترِ خارجہ میں ہوئی جہاں کسی بھی بھارتی سفیر یا اہلکار کو کلبھوشن کے اہلِ خانہ کے ساتھ آنے کی اجازت نہیں تھی۔

مذکورہ ملاقات کے دوران کلبھوشن یادیو نے اپنی اہلیہ اور والدہ کے سامنے بھی بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لیے جاسوسی کا اعتراف کیا تھا، جسے سن کر دونوں خواتین پریشان ہوگئی تھیں۔