بھارت اب ہمارے جواب کا انتظار کرے، پاک فوج

اپ ڈیٹ 26 فروری 2019

ای میل

ہمارا جواب مختلف ہوگا، جگہ اور وقت کا تعین ہم خود کریں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر— فوٹو: ڈان نیوز
ہمارا جواب مختلف ہوگا، جگہ اور وقت کا تعین ہم خود کریں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر— فوٹو: ڈان نیوز

پاک فوج نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اب وہ پاکستان کے جواب کا انتظار کرے جو انہیں حیران کردے گا، ہمارا ردِعمل بہت مختلف ہوگا، اس کے لیے جگہ اور وقت کا تعین ہم خود کریں گے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت پاکستان دشمنی میں بھی بے وقوفی دکھا رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو بتاؤں گا کہ آج کیا ہوا اور اس پر بھارتی میڈیا کس طرح سے بات کررہا ہے۔

انہوں نے بریفنگ کے دوران بھارت کے مختلف میڈیا چینلز کی جانب سے شائع کی جانے والی شہ سرخیوں کو بھی اسکرین پر دکھایا۔

انہوں نے کہا کہ ایک محاورہ ہے کہ بے وقوف دوست سے عقل مند دشمن بہتر ہوتا ہے، لیکن یہاں بھارت دشمنی میں بھی بے وقوفی کا ثبوت دیتا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس کے طیارے 21 منٹ تک ایل او سی کی دوسری جانب پاکستان کی فضائی حدود میں دراندازی کرتے رہے جو جھوٹے دعوے ہیں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’اللہ کی ذات بڑی ہے ، آئیں پاکستان کی حدود میں 21 منٹ تک رہ کر دکھائیں۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گزشتہ چنددنوں سے پاک بھارت کشیدگی جاری ہے، حالیہ کشیدگی کا آغاز پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ’پلوامہ کے بعد وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عوام سے بات چیت کی اور انہیں اعتماد میں لیا، جس کے بعد میں نے (میڈیا سے) تفصیلی بات چیت کی۔‘

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ’وزیراعظم نے کہا تھا کہ آپ (بھارت) نے اگر پاکستان پر حملہ کیا تو ہم جواب کا سوچیں گے نہیں بلکہ جواب دیں گے۔‘

مزید پڑھیں: بھارتی دراندازی، اپوزیشن کا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جس دن سے کشیدگی کا آغاز ہوا جنگ کی تیاری کے طریقہ کار کے مطابق بری، فضائی اور بحری افواج نے اقدامات کیے ہوئے ہیں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ہماری فوج تعینات ہے، اسی وجہ سے اگر بھارتی فوج زمینی راستہ اختیار کرتی انہیں وہی جواب ملتا جو ہم نے منصوبہ بنایا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کو پہلے مختلف دو مقامات پر مصروف کیا لیکن پھر کشمیر میں علیحدہ مقام سے دراندازی کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہا کہ رات کو ہمارا کمبٹ ایئر پیٹرول مشن پیٹرولنگ پر تھا جب بھارتی طیارے پہلی مرتبہ سیالکوٹ –لاہور کے علاقے میں ریڈار پر سامنے آئے جو پاکستانی حدود کی جانب بڑھ رہے تھے جس پر ہماری پیٹرولنگ ٹیم نے فضا سے ہی ان طیاروں کو چیلنج کیا اور وہ پاکستانی حدود میں داخل نہیں ہوسکے اور وہ سرحد سے 7 یا 8 میل دوری پر اپنی فضا میں ہی رہے۔

انہوں نے کہا اس کے بعد ہمارے ریڈار پر سامنے آیا کہ بھارت کی ایک بھاری ٹیم مظفرآباد سیکٹر سے دراندازی کی کوشش کررہی تھی جب ہماری تیسری کمبٹ ایئرپیٹرول ٹیم نے بھارتی طیاروں کو چیلنج کیا اس وقت انہوں نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) میں دخل اندازی کی جس کے آنے اور جانے میں 4 منٹ لگے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے واپس جاتے ہوئے جابہ کے مقام پر 4 بم گرائے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ جھوٹ کا سہارا لیا، پاکستان ان کا جواب جھوٹ سے نہیں بلکہ سچ سے دے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے 350 افراد کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تاہم اگر 10 افراد بھی مارے جاتے تو اس کے شواہد ہوتے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پاکستانی حدود میں کوئی کارروائی ہوتی تو وہاں لاشیں، عمارتوں کا ملبہ اور زخمیوں یا مارے جانے والوں کا خون ہوتا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ رواں برس 14 فروری کے بعد جب سے اس کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو سرحد کے دونوں اطراف اپنی اپنی فضائی کمبٹ پیٹرولنگ کرتے ہیں جن کی پیٹرولنگ جاری رہتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہر وقت کمبٹ ایئر پیٹرولنگ کے مشن فضا میں رہتے ہیں، ایسا ہی گزشتہ رات بھی تھا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی طیارے پہلے بھی سرحد کے نزدیک آئے تھے لیکن وہ اتنی نزدیک نہیں آئے تھے جہاں سے ہمیں محسوس ہوتا کہ یہ پاکستان کی حدود میں داخل ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کا مقصد آزاد کشمیر میں سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، شہری آبادی کو نشانہ بنانا تھا تاکہ کسی ایسے مقام پر حملہ کیا جاتا جہاں شہری آبادی موجود ہو تاکہ یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ بھارت نے پاکستان میں کسی ٹریننگ کیمپ پر حملہ کیا اور یہ دعویٰ الیکشن میں ان کے لیے فائدہ مند ہوتا۔

خیال رہے کہ رواں برس 14 فروری کو ایک ریموٹ کنٹرول حملے کے نتیجے میں تقریباً 44 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے، جس کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔