کشمیر میں ریموٹ کنٹرول دھماکا، 44 بھارتی فوجی ہلاک

اپ ڈیٹ فروری 15 2019

ای میل

بھارتی پیراملٹری فوجی اہلکار دھماکے کے مقام پر پیٹرولنگ کررہے ہیں — فوٹو: اے پی
بھارتی پیراملٹری فوجی اہلکار دھماکے کے مقام پر پیٹرولنگ کررہے ہیں — فوٹو: اے پی

مقبوضہ کشمیر میں ریموٹ کنٹرول دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد 44 ہوگئی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ریموٹ کنٹرول دھماکا سری نگر سے لگ بھگ 20 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع اہم ہائی وے پر اس وقت ہوا جب فوجی گاڑیوں کا قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا۔

بھارتی پولیس افسر منیر احمد خان نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ 'دھماکے میں ہلاک سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 44 تک جاپہنچی ہے۔'

تاہم انہوں نے زخمیوں کی تعداد اور ان کی حالت کے حوالے سے کچھ بتانے سے گریز کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ریموٹ کنٹرول دھماکا اس وقت کیا گیا جب سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کا قافلہ گزر رہا تھا۔'

دھماکا سری نگر سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع اہم ہائی وے پر ہوا — فوٹو: اے پی
دھماکا سری نگر سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع اہم ہائی وے پر ہوا — فوٹو: اے پی

غیر مصدقہ تصاویر میں دیکھا گیا کہ ہائی وے پر نیلے رنگ کی ملٹری بسوں کے ساتھ جل کر سیاہ ہونے والی ایک گاڑی کا ملبہ پھیلا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کے کیمپ پر حملہ، 3 ہلاک

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 2002 کے بعد بھارتی سیکیورٹی فورسز پر یہ سب سے زیادہ جان لیوا حملہ ہے۔

بھارت کے تقریباً 5 لاکھ فوجی کشمیر کے خطے میں تعینات ہیں، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم ہے اور جہاں 1947 میں برطانوی سامراج کے خاتمے کے بعد بدامنی پائی جاتی ہے۔

کشمیری عوام 1989 سے اپنی آزادی یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔

نئی دہلی کی جانب سے پاکستان پر آزادی کی اس لڑائی کو ایندھن فراہم کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے، جس میں اب تک ہزاروں معصوم شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔

پاکستان اس الزام کی سختی سے تردید کرتا آیا ہے اور اس کا موقف ہے کہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی صرف سفارتی سطح پر حمایت کرتا ہے۔