بھارتی ایئر فورس کی دراندازی کی کوشش، پاک فضائیہ کا بروقت ردِ عمل

اپ ڈیٹ 26 فروری 2019

ای میل

بھارتی طیارے سے گرنے والا ہتھیار—فوٹو:ڈی جی آئی ایس پی آر ٹوئٹر
بھارتی طیارے سے گرنے والا ہتھیار—فوٹو:ڈی جی آئی ایس پی آر ٹوئٹر

بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر کے علاقے میں دراندازی کی کوشش پر پاک فضائیہ نے بروقت ردعمل دیتےہوئے دشمن کے طیاروں کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ آزاد کشمیر کے علاقے مظفرآباد میں داخل ہونے کی کوشش کر کے بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزی کی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر علی الصبح اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے بتایا کہ بھارتی فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی، جس پر پاک فضائیہ فوری طور پر حرکت میں آئی اور بھارتی طیارے واپس چلے گئے۔

بعد ازاں ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بھارتی طیاروں نے مظفرآباد سیکٹر سے گھسنے کی کوشش کی جس پر پاک فضائیہ نے فوری اور بروقت کارروائی کی۔

پاک فضائیہ کے بروقت ردعمل کے باعث بھارتی طیارے نے عجلت میں فرار ہوتے ہوئے بالاکوٹ کے قریب ایک ہتھیار پھینکا تاہم خوش قسمتی سے اس سے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔

بعدازاں ڈی جی آئی ایس پی آر نے ٹوئٹر پر مذکورہ مقام کی تصاویر بھی شیئر کیں۔

بعدازاں ایک اور ٹوئٹ میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی طیارے آزاد جموں کشمیر میں 3 سے 4 میل تک اندر دراندازی کی۔

میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ بھارتی طیارے جلد بازی میں فرار ہوتے ہوئے ہدف کے بغیر ہی پے لوڈ (طیاروں پر موجود گولہ بارود) گرا گئے۔

پاک فوج کے ترجمان کے مطابق پے لوڈ کھلے علاقے میں گرا جس سے کسی قسم کی کوئی تعمیرات متاثر نہیں ہوئیں۔

انہوں نے بعد میں مزید تکنیکی اور اہم معلومات کی تفصیلات سے آگاہ کرنے کا بھی کہا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارت کی پیراملٹری فورس پر ہونے والے ایک خود کش حملے کے بعد سے سخت کشیدہ ہیں جس میں 44 بھارتی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

مذکورہ حملے کے بعد بھارت نے روایتی الزام تراشی کا سہارا لیتے ہوئے پاکستان کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا جبکہ پاکستان نے اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے بھارت کو کشمیریوں کی ناراضی کی وجوہات کی طرف توجہ دینے کا کہا تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بمبار، مقبوضہ کشمیر کا رہائشی تھا جبکہ اس کے والدین کا کہنا تھا کہ وہ شدت پسندی کی طرف، بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے حقوق کی پامالیوں اور تشدد کی وجہ سے مائل ہوا۔

پلوامہ حملہ

14 فروری کو مقبوضہ کشمیر میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 44 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد نئی دہلی نے کسی بھی طرح کی تحقیقات کیے بغیر اس کا الزام پاکستان پر عائد کردیا تھا جسے اسلام آباد نے مسترد کردیا۔

بھارت نے الزام لگایا تھا کہ یہ حملہ کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی جانب سے کروایا گیا، ساتھ ہی انہوں نے اس حملے کے ماسٹر مائنڈ کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پلوامہ حملہ: سینیٹر رحمٰن ملک کے بھارت سے 21 اہم سوالات

تاہم بغیر کسی ثبوت کے بھارت نے اس معاملے کو پاکستان سے جوڑدیا تھا اور پاکستان سے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ واپس لے لیا تھا جبکہ پاکستان سپرلیگ کی نشریات پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔

اس کے علاوہ بھارتی درآمدکنندگان نے پاکستانی سیمنٹ کی درآمد روک دی تھی جس کے نتیجے میں پاکستان کی سیمنٹ فیکٹریوں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

بھارت میں اور مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمان شہریوں کے گھروں اور املاک کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں درجنوں مسلمان خاندان محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: پلوامہ حملہ: بھارت نے وزیراعظم عمران خان کی تحقیقات کی پیشکش مسترد کردی

بعد ازاں بھارتی الزام تراشی کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے نئی دہلی کو ’قابلِ عمل معلومات‘ فراہم کرنے کی صورت میں تحقیقات میں تعاون کی بھی پیشکش کی تھی، اس کے ساتھ خبردار بھی کیا کہ اگر بھارت نے کسی قسم کی جارحیت کی تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔

تاہم بھارت نے ہمیشہ کی طرح الزام تراشی کرتے ہوئے تحقیقات کی پیش کش کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ پاکستانی وزیراعظم کے بیان کو حقیقت کے برعکس قرار دیا۔