بھارتی فضائیہ کے 'حملے' سے کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا، علاقہ مکین

اپ ڈیٹ 27 فروری 2019

ای میل

علاقہ مکین ڈان نیوز سے بات کر رہے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز
علاقہ مکین ڈان نیوز سے بات کر رہے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز

خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں جبہ گاؤں کے افراد کا کہنا ہے کہ بالاکوٹ شہر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پہاڑ پر منگل کے روز علی الصبح بھارتی طیاروں کی جانب سے مبینہ طور پر بم گرانے کے واقعے سے وہ نیند سے بیدار ہوگئے تھے۔

مقامی شخص کا کہنا ہے کہ صبح سویرے 5 دھماکے ہوئے جن سے ہماری آنکھیں کھلیں اور ہمیں کچھ فاصلے پر طیاروں کے اڑان بھرنے کی آوازیں آرہی تھیں، بم پہاڑ کی سرسبز جگہ پر گرے جہاں پائن (صنوبر) کے درخت موجود تھے۔

دیگر مقامی افراد نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کی تحصیل بالاکوٹ میں جبہ کا دورہ کرنے پر کیا ہوا۔

محمد ذاکر کا کہنا تھا کہ ’پہلے دھماکے کے بعد میں اپنے کمرے سے باہر نکلا یہ جاننے کے لیے کہ کیا ہوا ہے، میں نے روشنی دیکھی اور میں واپس اپنے کمرے میں داخل ہوگیا، میں نے مزید 3 دھماکوں کی آواز سنی، وہ انتہائی خوفناک تھی جسے میں بیان بھی نہیں کرسکتا‘۔

مزید پڑھیں: پاک فضائیہ نے 2 بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے، پاک فوج

ان کے گھر کے قریب 10 فُٹ گہرا گڑھا ہوگیا تاہم ان کا گھر محفوظ رہا۔

28 سالہ چوہدری شفقت اویس کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر انہیں لگا کہ زلزلہ آیا ہے کیونکہ 2005 میں بھی ایسا ہوا تھا جس کی وجہ سے بالاکوٹ اور مظفر آباد بری طرح متاثر ہوا تھا۔

اپنے موبائل میں کھینچی گئی گڑھوں کی تصاویر دکھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’تیز دھماکوں کی آواز سے ہمارے گھر لرز گئے تھے اور وہاں طیاروں کی بھی آواز تھی، میں نے صبح 10 بجے علاقے کا دورہ کیا اور میں نے 2 مختلف مقامات پر 4 گڑھے دیکھے‘۔

ان کی دکھائی گئی تصاویر میں گڑھے کے نزدیک سرمئی رنگ کی مٹی اور چند گرے ہوئے صنوبر کے درخت دکھائی دیے۔

گولہ باری کے ٹکرے، درختوں میں آگ

متعدد دیگر علاقہ مکینوں نے اپنی آنکھوں دیکھا حال بیان کیا اور چند گولہ باری کے ٹکڑے بھی دکھائے۔

دیگر نے جلتے درخت کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا، زاہد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ ’یہاں صرف جلتے درختوں کے علاوہ کچھ نہیں، ایک اور عینی شاہد کا کہنا تھا کہ ’چند درختوں پر آگ لگی تھی‘۔

روایتی بھیڑ بکریوں کا کام کرنے والے چند علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پاک فضائیہ کے طیاروں کو ہمارے سروں پر اڑان بھرتے دیکھا‘۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی جارحیت پر پاکستانی عوام کا ردعمل

مبینہ فضائی حملے کی جگہ پر ایک مٹی کا گھر قائم تھا جس کے علاوہ گرد و نواح میں کچھ نہیں تھا جس کی وجہ سے بھارتی طیاروں کی فرار ہونے کی کوشش میں اپنا پے لوڈ گرانے کے بیان کو تقویت ملتی ہے۔

بعد ازاں افواج کی جانب سے علاقے کو بند کرکے نہ پھٹنے والے بموں کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔

کوئی ایمبولینس نہیں دیکھی گئی

واقعے میں صرف ایک ہی 60 سالہ نورن شاہ زخمی کے طور پر سامنے آئیں، دھماکے کے نتیجے میں ان کے مٹی کے گھر کی دیوار گری جس کی وجہ سے ان کے سر پر چوٹ لگی بعد ازاں مقامی ہسپتال میں انہیں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد فارغ کردیا گیا۔

مقامی علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ مبینہ بم باری کے بعد انہوں نے علاقے میں کوئی ایمبولینس نہیں دیکھی جو بھارت کے دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپ پر حملے اور 300 افراد کے ہلاک ہونے کے دعوے کو غلط ثابت کرتے ہیں۔

مقامی شوکت قریشی کا کہنا تھا کہ ’یہاں کوئی بھی ایسا کام نہیں ہوتا، کوئی کیمپ نہیں، کوئی دہشت گرد نہیں کچھ بھی نہیں سب بکواس باتیں ہیں‘۔

مزید پڑھیں: بھارت کی جانب سے ایل اوسی کی خلاف ورزی پر او آئی سی کی مذمت

ضلع میں واحد ہسپتال کنگ شاہ میڈیکل ٹیچنگ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد جاوید تنولی کا کہنا تھا کہ جائے وقوع سے ایک خاتون کے علاوہ کوئی زخمی سامنے نہیں آیا۔

خیال رہے کہ مانسہرہ ناران جال کھنڈ روڈ پر معمول کے مطابق ٹریفک بحال رہا اور مقامی بازاروں میں کاروبار معمول کے مطابق رہا۔

اس روڈ پر ایک ہوٹل کے مالک کا کہنا تھا کہ ان کا ریسٹورنٹ صبح فجر سے رات گئے تک کھلا رہا، مجھے کوئی ایمبولینس اس روڈ پر نظر نہیں آئی، جیسے بھارتی حکومت نے دعویٰ کیا، اگر واقعی ہلاکتیں ہوئی ہوتیں تو انہیں اسی راستے سے لے جایا جانا تھا‘۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 27 فروری 2019 کو شائع ہوئی