سندھ ہائی کورٹ: شاہ زیب قتل کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ

اپ ڈیٹ 11 مارچ 2019

ای میل

سندھ ہائی کورٹ نے سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا—فائل/فوٹو:پی پی آئی
سندھ ہائی کورٹ نے سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا—فائل/فوٹو:پی پی آئی

سندھ ہائی کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس میں مرکزی ملزمان شاہ رخ جتوئی اور دیگر کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس محمد علی مظاہر کی سربراہی میں ڈویژن بینچ میں سماعت کے دوران مدعی کے وکیل محمود عالم رضوی نے موقف اپنایا کہ مدعی مقدمہ اور مقتول کے والد کا انتقال ہوچکا ہے، مدعی کے پسماندگان میں بیوہ اور دو بیٹیاں ہیں اور تینوں خواتین بیرون ملک ہیں اور عدالت نہیں آنا چاہتیں، عدالتی نمائندہ اسکائپ یا کسی اور طرح رابطہ کرکے سمجھوتے کی تصدیق کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ مقتول شاہزیب کے والد اورنگ زیب خان 21 اگست 2018 کو نیوزی لینڈ میں انتقال کرگئے تھے جہاں وہ چھٹیاں گزارنے گئے تھے جبکہ وہ اے ڈی آئی جی کرائم برانچ کے عہدے پر تعینات تھے۔

سرکاری وکیل ظفر احمد نے اپنے دلائل میں کہا کہ سرکار نے ملزمان اور مدعی کے درمیان سمجھوتے پر اعتراض کیا تھا جبکہ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کی رضامندی کے بغیر سمجھوتہ پیش نہیں کیا جاسکتا، مدعی کے وکلا کی قانونی حیثیت پر بینچ کے تحفظات تھے۔

اس موقع پر عدالت نے کہا کہ مقتول کے ورثا کا پتہ ہی کم سے کم ریکارڈ پر ہونا چاہیے جس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ورثا بیرون ملک مقیم ہیں، انہیں ملزمان سے نہیں بلکہ سوشل میڈیا سے خطرہ ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے بینچ نے استفسار کیا کہ کس سے خطرہ ہے اور کب تک چھپتے پھریں گے، جن سے خطرہ ہے ان کے خلاف مقدمہ درج کرائیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف شاہ رخ جتوئی کی نظرثانی اپیل

مدعی کے وکیل نے کہا کہ سمجھوتے کے بعد سوشل میڈیا دشمن ہوگیا ہے اس لیے وہ کس کس سے لڑیں گے، ایک مرتبہ سمجھوتہ ہو جائے تو ورثا منحرف نہیں ہوسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیشن عدالت انکوائری کرکے سمجھوتے کو دباؤ سے پاک قرار دے چکی ہے جس کے بعد ملزمان کے وکلا نے سمجھوتہ عدالت میں پیش کیا، جبکہ وکیل صفائی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہمارے دلائل مکمل ہوچکے اور تحریری دلائل بھی جمع کرا دیئے گئے ہیں۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس میں نامزد ملزمان شاہ رخ جتوئی، سراج تالپور، سجاد تالپور اور غلام مرتضٰی لاشاری کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

شاہ زیب قتل کیس

یاد رہے کہ 24 دسمبر 2012 میں کراچی میں ڈیفنس کے علاقے میں 20 سالہ نوجوان شاہ زیب شاہ رخ جتوئی اور سمیت 4 ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت نے نوجوان شاہ زیب کو قتل کرنے کے جرم میں شارخ جتوئی اور سراج علی تالپور کو سزائے موت سنادی تھی جبکہ سجاد علی تالپور اور غلام مرتضیٰ لاشاری کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت کی جانب سے سزائے موت سنانے کے چند ماہ بعد شاہ زیب کے والدین نے معافی نامہ جاری کردیا تھا جس کو سندھ ہائی کورٹ نے منظور کیا تھا۔

مزید پڑھیں: شاہ زیب قتل کیس: انسانی حقوق کی تنظیموں کو ایک وکیل مقرر کرنے کی ہدایت

شاہ زیب کے والدین کی جانب سے معافی نامہ جاری کرنے کے بعد سزائے موت دہشت گردی کی دفعات کے باعث برقرار تھی تاہم 11 نومبر 2017 کو سندھ ہائی کورٹ نے سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ تفتیش کا حکم جاری کردیا تھا۔

یاد رہے کہ 26 دسمبر 2017 کو وکلا، انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر اور کراچی کے دیگر شہریوں نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی اور ان کے ساتھیوں کے مقدمے کو سیشن عدالت بھیجنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

سپریم کورٹ نے یکم فروری 2018 کو شاہ زیب قتل کیس میں متفرق درخواستوں کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے شاہ رخ جتوئی سمیت 3 ملزمان کو دی جانے والی ضمانت اور مذکورہ کیس دوبارہ سول عدالت میں چلانے کا فیصلہ معطل کرکے ملزمان کی گرفتاری کا حکم دے دیا تھا۔

اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مقبول باقر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے شاہ زیب قتل کیس میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کی تھی۔

سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے پولیس کو ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے تینوں ملزمان کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے تک ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم بھی دیا تھا۔