ایف بی آر کی ناقص کارکردگی، 5 ماہ میں صرف ایک غیر ملکی اکاؤنٹ سے 12 لاکھ ڈالر وصول

15 مارچ 2019

ای میل

آف شور اکاؤنٹس سے کم وصولی پر کمیٹی اراکین نے برہمی کا اظہار کیا— فائل فوٹو: اے ایف پی
آف شور اکاؤنٹس سے کم وصولی پر کمیٹی اراکین نے برہمی کا اظہار کیا— فائل فوٹو: اے ایف پی

دس لاکھ ڈالر فی کس مالیت کے حامل پاکستانیوں کے 400 سے زائد آف شور بینک اکاؤنٹس سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو پانچ ماہ کی جدوجہد کے بعد بمشکل ایک اکاؤنٹ سے 12 لاکھ 20 ہزار ڈالر کا ٹیکس وصول کرنے میں کامیاب ہوسکا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاناما لیکس کے مقدمات کے بعد ایف بی آر اضافی ٹیکس کی وصولی کے لیے ٹیکس اداکرنے والوں کو ٹیکس ڈیمانڈ بھیجتا ہے۔

مزید پڑھیں: 'آئندہ مالی سال کیلئے ترقیاتی کاموں کے تخمینے میں تبدیلی ممکن نہیں'

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مالیات کا اجلاس جمعرات کو چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی فیض اللہ کی زیر سربراہی منعقد ہوا جس میں بیرون ملک اثاثوں کے مقدمات میں ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس ریکوری کی ناقص صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

آف شور اکاؤنٹس سے کم وصولی کی خبر پر کمیٹی اراکین نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے ایف بی آر کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا۔

چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان نے کمیٹی کو بتایا کہ بینک اکاؤنٹس کی اصل معلومات بینک کے پاس ہیں اور معاملے کی ذمے داری اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر ڈالتے ہوئے کہا کہ مرکزی بینک ریگولیٹر کے طور پر کمیٹی کو تفصیلات بتانے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہو گا۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ایف بی آر، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور قومی احتساب بیورو کو معاملے پر بریفنگ کے لیے کمیٹی کے اجلاس میں طلب کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی بینک سے 2.3 ارب ڈالر کی فنڈنگ میں سرخ فیتہ حائل

ایف بی آر کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کے بیرون ملک ایک لاکھ 52ہزار 518 اکاؤنٹس کی تفصیلات موصول ہوئی ہیں، حاصل شدہ ڈیٹا کا ٹیکس کے تناظر جائزہ لیا گیا ہے اور ایف بی آر اس وقت برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی جائیداد کا جائزہ لے رہا ہے۔

کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ایف بی آر کے چیف انٹرنیشنل ٹیکسز اشفاق احمد نے کہا کہ ہم اس وقت ہم بیرون ملک 400 اہم بینک اکاؤنٹس کے مقدمات کی تحقیقات کر رہے ہیں جہاں ان میں سے ہر پاکستانی کے اکاؤنٹ میں ایک ملین ڈالر موجود ہیں، ہمیں 28ملکوں سے ڈیٹا موصول ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ان بینک اکاؤنٹس کے مالک افراد تک رسائی اور انہیں نوٹس جاری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اگلے مرحلے میں ایف بی آر ان بینک اکاؤنٹس کی تفتیش کرے گا جن میں ایک ملین ڈالر سے کم رقم موجود ہے۔

کمیٹی کو برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی جائیداد کی تفصیلات بتاتے ہوئے اشفاق احمد نے کہا کہ ایف بی آر کو متحدہ عرب امارات میں صرف 5ہزار جائیدادوں کے ثبوت ملے ہیں البتہ اکثر مقدمات میں جائیداد کے مالکان نے سابقہ ایمنسٹی اسکیم سے بھی فائدہ اٹھایا تھا۔

مزید پڑھیں: نجی شعبوں کے قرضوں میں 92 فیصد کا اضافہ

ان کا کہنا تھا کہ جن پاکستانیوں کی آف شور جائیدادیں ہیں ان کے پاسپورٹ نمبر اور جائیدادوں کی تفصیلات متحدہ عرب امارات کے حکام سے طلب کر لی گئی ہیں لیکن متحدہ عرب امارات کے حکام معلومات کی فراہمی میں وقت لے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ سے مفاہمتی یاددشات کی بدولت وہاں سے بھی ایف بی آر کو 525 جائیدادوں کی تفصیلات ملی ہیں ، ہم ان کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ پتہ چلا سکیں کہ ان میں سے غیراعلان دہ اور ٹیکس ادا نہ کی گئی جائیدادوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ٹیکس کی جلد از جلد وصولی کے حوالے سے اشفاق احمد نے کمیشن کو بتایا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 165اے کے تحت بینکس مسلسل معلومات فراہم کر رہے ہیں اور اب تک ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو نے 8ہزار بے نامی اکاؤنٹس لا پتہ لگایا ہے۔

گاڑیوں پر ’اون‘ کا معاملہ

اجلاس کے دوران صارفین سے گاڑیوں کی جلد فراہمی کے لیے زیادہ رقم وصولی(اون) پر بھی بحث کی گئی۔

کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ہونڈا اور ٹیوٹا کے نمائندوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران گاڑیوں کی دیر سے فراہمی پر انہوں نے صارفین کو تقریباً دو ارب روپے ادا کیے۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کی فروخت میں کمی، آٹو شعبہ اپنی پیداوار کم کرنے پر مجبور

البتہ وزارت صنعت و پیداوار کے نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہ گاڑیاں دیر سے فراہم کی جانے کی شکایات موصول ہوئی ہیں اور وزارت اس سلسلے کے خاتمے کے لیے متعدد آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

ایف بی آر نے کمیٹی کے سامنے انکشاف کیا کہ گزشتہ 5سال کے دوران کراچی کے ایک ڈیلر نے اپنے نام پر 10ہزار گاڑیاں رجسٹر کرائیں جس پر چیئرمین نے کمیٹی سے پوچھا کہ ٹیکس حکام نے مذکورہ فرد کو نوٹس جاری کیا تھا یا نہیں۔

گاڑیوں کی کمپنیوں کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے ڈیمانڈ اور سپلائی کے درمیان بڑھتی خلیج کو کم کرنے کے لیے گاڑی سازی کی استعداد کار میں اضافہ کیا ہے اور بکنگ کے ایک ماہ کے اندر گاڑیاں فراہم کر رہے ہیں۔