نجی شعبوں کے قرضوں میں 92 فیصد کا اضافہ

اپ ڈیٹ 08 مارچ 2019

ای میل

قرضوں میں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب جنوری 2018 میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود 5.75 فیصد سے بڑھا کر 10.25 فیصد کردی تھی — اے ایف پی/فائل فوٹو
قرضوں میں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب جنوری 2018 میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود 5.75 فیصد سے بڑھا کر 10.25 فیصد کردی تھی — اے ایف پی/فائل فوٹو

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردیا ڈیٹا کے مطابق نجی شعبوں کے قرضوں میں 92 فیصد اضافہ سامنے آیا جو جولائی سے 22 فروری تک 600.5 ارب روپے ہوگئے جبکہ یہ گزشتہ سال اس ہی مدت کے دوران 312 ارب تھے۔

قرضوں میں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب جنوری 2018 میں اسٹیٹ بینک نے سود کی شرح 5.75 فیصد سے بڑھا کر 10.25 فیصد کردی تھی۔

عام بینکوں کے قرضے 8 ماہ میں 204.4 ارب روپے سے بڑھ کر 409.8 ارب روپے ہوگئے جبکہ اسلامک بینکوں میں بھی قرضہ گزشتہ سال کے 23.8 ارب روپے کے مقابلے میں 90 ارب روپے ہوگئے۔

مزید پڑھیں: ایف پی پی سی آئی نے شرح سود میں اضافے کی مخالفت کردی

کمرشل بینکوں کی اسلامک بینکنگ میں بھی نجی شعبوں کو قرضے گزشتہ سال کے 84 ارب روپے کے مقابلے میں 100 ارب روپے تک پہنچ گئے۔

بینکروں کا کہنا ہے کہ نجی شعبوں میں رقم کا زیادہ بہاؤ بینکوں کے پاس رواں اثاثوں (لیکوئیڈیٹی) کو ایک جگہ رکھنے کے کم آپشنز کی وجہ سے ہیں جبکہ حکومت نے بینکوں سے طویل المدتی قرضوں کو بھی کم کردیا ہے جو گزشتہ حکومت میں عام بات تھی اور اس سے سرمایہ پر زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے۔

افراط زر اور شرح سود میں مسلسل اضافہ سامنے آیا ہے تاہم نجی شعبوں کی جانب سے قرضے حاصل کرنا کم نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ایف اے ٹی ایف تجاویز پر عمل نہ کیا گیا تو معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا‘

یہ اضافے نمو اور پھیلاؤ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں تاہم ان سے مالی سال 2019 میں معاشی نمو میں واضح بہتری سامنے آئے گی۔

سینیئر بینکر کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار حکومت کے لیے حوصلہ افزا ہے کیونکہ نجی شعبے شرح سود میں اضافے کے باوجود نہایت تیزی سے قرضے لے رہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ شرح سود میں اضافے کے وقت پر نجی شعبوں کے قرضے حاصل کرنے سے بینکوں میں کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرنے والے قرضوں میں اضافہ کردے گا۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 8 مارچ 2019 کو شائع ہوئی